انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 23

انوار العلوم جلد ۳۰ ۲۳ ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب قبول کرے کیونکہ ان کو رد کرنا خدا تعالی کے احکام اور اس کے فیصلہ کو رد کرنا ہے۔ اور ان کا قبول کرنا در حقیقت خدا تعالی کے فیصلہ کو قبول کرنا ہے۔ غرضکہ اصل جھگڑا صرف حضرت مسیح موعود کی صداقت کے متعلق ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے ؟ اگر اس سوال کا جواب یہ ملے کہ ہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے تو اب جو کچھ ان کا حکم ہے وہ ہمیں قبول کرنا پڑے گا۔ اور خصوصاً ان باتوں کے رد کرنے کی تو ہمارے پاس کوئی وجہ ہی نہیں جن کی نسبت مسیح موعود نے فرما دیا ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ کیونکہ جب وہ بچے ہیں تو وہ باتیں جو ۔ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کہتے ہیں وہ بھی بچی ہیں۔ اور ان پر اعتراض نہیں پڑ سکتا۔ پس آپ کے ان سوالات کے جواب میں سب سے پہلے تو میں یہی کہوں گا کہ آپ اس بات کی تحقیق کریں کہ مسیح موعود واقعہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے یا نہیں۔ اگر آپ پر یہ بات کھل جائے کہ وہ واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سے ہیں ہیں : تو پھر آپ کو ان ان - سوالات کا کا : جواب بھی خود ہی مل جائے گا کیونکہ جو شخص خدا تعالی کی طرف سے ہو اس کے فیصلوں کا ماننا ضروری ہے اور جن باتوں کے متعلق آپ نے سوال کیا ہے وہ تو ایسی ہیں کہ ان کے متعلق مسیح موعود کا فیصلہ امرالہی کے ماتحت ہے۔ اب میں مختصراً آپ کے سوالات کا جواب نمبر وار دیتا ہوں۔ کہ اگر میں احمدیت کا اظہار کروں تو مجھے تمام مسلمان کافر سمجھیں گے ا۔ پہلا سوال یہ ہے : اور مجھے بھی ان کو ایسا ہی سمجھنا پڑے گا۔ اگر آپ اس سوال پر مزید غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کے احمدی مشہور ہونے یا نہ ہونے کو مسئلہ کفر و اسلام غیر احمد یاں سے تعلق ہی نہیں کیونکہ پہلا سوال تو یہ ہو گا کہ آیا مسیح موعود کے منکر کافر ہیں یا نہیں۔ اگر وہ کافر نہیں تو خواہ آپ احمدی مشہور ہوں یا نہ ہوں آپ کو انہیں مسلمان ہی ماننا پڑے گا اور اگر وہ مسلمان نہیں تو پھر بھی خواہ آپ اپنے احمدی ہونے کا اظہار نہ کریں اور خفیہ رہیں آپ کو انہیں کافر ماننا پڑے گا کیونکہ آپ کے احمدی مشہور ہونے یا نہ ہونے سے اصل واقعہ میں فرق نہیں آ جاتا اگر وہ کافر ہیں تو ہر دو صورت میں کافر ہی رہیں گے اور اگر وہ مسلمان ہیں تو ہر دو صورت میں مسلمان رہیں گے اگر فرق ہو گا تو صرف یہ کہ اگر آپ احمدی مشہور ہوں تو لوگوں کو آپ کے دلی خیالات کا علم ہو جائے گا اور اگر آپ احمدی مشہور نہ ہوں تو آپ کے حقیقی خیالات سے لوگ ناواقف رہیں گے۔ پس سوائے اس کے کہ حقیقت پر ایک پردہ پڑا رہے نفس حقیقت میں کسی کے احمدی