انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 465

انوار العلوم جلد ۳۰ ۴۶۵ جماعت احمد یہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں میں ہماری گورنمنٹ بہت وسیع سامان رکھتی ہے مگر پھر بھی اس کو یک لخت شکست نہیں دی جا سکتی۔ یہی حال روحانی جنگ کا ہے۔ اس لئے یاد رکھو کہ تمہیں اس مقابلہ میں اچانک اور جھٹ پٹ فتح نہیں حاصل ہو جائے گی بلکہ تمہیں ایک ایک صوبہ ایک ایک علاقہ ایک ایک شہر ایک ایک گاؤں ایک ایک گلی ایک ایک گھر ایک ایک کونے بلکہ ایک ایک فٹ اور ایک ایک انچ زمین کے لئے لڑنا ہو گا اور شیطان سے مقابلہ کر کے اسے شکست دینی پڑے گی تب جا کر فتح کا منہ دیکھو گے اور خدا تعالیٰ کے حضور میں سرخرو ہوگے اور اس کے محبوب اور پیارے ہو جاؤ گے اور اس کے انعامات کے وارث ٹھہرو گے۔ پس اپنی کمروں کو کسی لو اور سینوں کو تان لو اور آج ہی سے نئے انسان بن جاؤ ۔ آج کے دن کی شام تم کو وہ انسان نہ دیکھے جو صبح نے دیکھا اور کل کی صبح تمہیں اس حالت میں نہ پائے جس حالت میں آج کی شام نے پایا۔ ہر لحظہ اور ہر گھڑی تمہارے اندر نیا جوش اور نیا ولولہ پیدا کرے ۔ اور ہر منٹ تمہارے اندر اور زیادہ ہمت پیدا کرے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ موجودہ جنگ میں قومیں کس طرح اپنی بہادری اور شجاعت رکھا رہی ہیں۔ جرمن ہمارا دشمن ہی سہی مگر ہماری گورنمنٹ اس کے متعلق کہتی ہے کہ وہ اپنے ملک کی ہر ایک چیز کو کام میں لے آیا ہے اور کوئی چیز اس نے ایسی نہیں چھوڑی جس کا انتظام سرکاری ہاتھوں میں نہ ہو ملک کے تمام زر و مال اور دوسری اشیاء پر اس نے قبضہ کر لیا ہے اور سب ملک کو ایک گھرانہ کی صورت میں بنا دیا ہے۔ سب کو پکی پکائی روٹی ملتی ہے۔ پھر ان میں قربانی کی ایسی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے کچھ دن ہوئے ایک امریکن نے لکھا تھا کہ ایک اتنی برس کی بڑھیا تھی اور اس کا ایک ہی لڑکا تھا جو میدان جنگ میں مارا گیا تھا جب اس کے مرنے کی خبر آئی تو وہ بڑھیا بلائی گئی۔ اور اس کے بیٹے کی وفات کی خبرا سے سنائی گئی ۔ وہ یہ خبر سن کر جب واپس آرہی تھی تو اس کے پاؤں لڑکھڑا رہے تھے اور اس کا رنگ زرد ہو رہا تھا۔ لیکن جونہی اس نے دیکھا کہ لوگ سامنے کھڑے ہیں تو کمر اکڑاتی اور یہ کہتی ہوئی چلی گئی کہ اگر میرا بیٹا مارا گیا ہے تو کیا ہوا ملک کے لئے مارا گیا ہے۔ ہماری گورنمنٹ کی رعایا میں تو اس سے بھی بڑھ کر مثالیں پائی جاتی ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا اخباروں میں شائع ہوا تھا کہ ایک عورت کے آٹھ بچے تھے جن میں سے سات لڑائی پر گئے ہوئے تھے اور بعض مر بھی چکے تھے۔ لیکن جب اعلان ہوا کہ سب قابل جنگ نوجوان بھرتی کئے جائیں تو اس عورت نے اپنا آٹھواں لڑکا بھی پیش کر دیا ۔ جس علاقہ میں وہ رہتی تھی اس کے