انوارالعلوم (جلد 3) — Page 423
انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۲۳ متفرق امور احمدی ہو جائے لیکن اس وقت مجھے یاد نہ رہا۔ اس طرح اگر مسیح موعود نے کسی کا جنازہ پڑھ دیا تو وہ ہمارے لئے حجت نہیں ہے۔ ہاں اگر چند معتبر آدمی حلفیہ بیان کریں کہ ہم نے حضرت مسیح عود کو کہا تھا کہ فلاں غیر احمدی فوت ہو گیا ہے۔ آپ اس کا جنازہ پڑھ دیں۔ اور پھر آپ نے پڑھ دیا تو ہم مان لیں گے۔ کیا کوئی ایسے شاہد ہیں۔ اور آر پس جب تک کوئی اس طرح نہ کرے۔ یہ بات ثابت نہیں ہو سکتی کہ آپ نے کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز قرار دیا ہے۔ اور ہمارے پاس غیر احمدی کا جنازہ نہ پڑھنے کے متعلق ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔ اور وہ یہ کہ یہاں حضرت مسیح موعود کے اپنے بیٹے کی لاش لائی گئی۔ آپ کو جنازہ پڑھنے کے لئے کہا گیا۔ تو آپ نے ' آپ نے انکار کر دیا۔ پھر سرسید کے جنازہ پڑھنے کے متعلق مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کا خط موجود ہے کہ آپ نے اس کا جنازہ نہیں پڑھا۔ کیا وہ آپ کو کافر کہتے تھے ہرگز نہیں ان کا تو مذہب ہی یہ تھا کہ کوئی کافر نہیں ہے۔ جب ان کے جنازہ کے متعلق خط لکھا گیا تو جیسا کہ مولوی عبد الکریم صاحب مندرجہ ذیل خط میں ایک دوست کو تحریر فرماتے ہیں کہ آپ نے اس پر خفگی کا اظہار فرمایا : متوفی (کی) خبروفات سن کر خاموش رہے ۔ ہماری لاہوری جماعت نے متفقاً زور شور سے عرضداشت بھیجی کہ وہاں جنازہ پڑھا جائے اور پھر نوٹس دیا جائے کہ سب لوگ جماعت کے ہر شہر میں اسی تقلید پر جنازہ پڑھا جائے اور اس سے نوجوانوں کو یقین ہو گا کہ ہمارا فرقہ صلح گل فرقہ ہے۔ اس پر حضرت صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا فرمایا اور لوگ نفاق سے کوئی کارروائی کریں تو بیچ بھی جائیں مگر ہم پر تو ضرور غضب الہی نازل ہو۔ اور فرمایا ہم تو ایک محرک کے تحت میں ہیں بے اسکی تحریک کے کچھ کر نہیں سکتے ۔ نہ ہم کوئی کلمہ بد اسکے حق میں کہتے ہیں اور نہ کچھ اور کرتے ہیں۔ تفویض الی اللہ کرتے ہیں۔ فرمایا جس تبدیلی کے ہم منتظر بیٹھے ہیں اگر ساری دنیا خوش ہو جائے اور ایک خدا خوش نہ ہو تو کبھی ہم مقصود حاصل نہیں کر سکتے“ (الفضل ۲۸ مارچ ۱۹۱۵ء) پس ہم کس طرح کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز سمجھ سکتے ہیں۔ ایک اور بات میں بیان کر دینا چاہتا ہوں۔ اور وہ یہ ہے کہ بعض شک کا ازالہ کرنا چاہئے لوگوں میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ اگر ان کے دل میں کسی مسئلہ کے متعلق کوئی شک ہو تو اسے اپنے دل میں ہی دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ بہت خراب نکلتا ہے۔ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ شک ایک پیج کی طرح ہوتا ہے اگر اس طرح ہوتا ہے اگر اسن