انوارالعلوم (جلد 3) — Page 413
انوار العلوم جلد - ۳ ۱۳ متفرق امور آزادی میں نے اس لئے کہا ہے کہ اگر کوئی اس طرح کی بیعت فسخ کرے گا تو میرے نزدیک اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ پس ان لوگوں کو میں پھر کہتا ہوں کہ جنہوں نے مولوی محمد احسن صاحب کی دی ہوئی خلافت سمجھ کر میری بیعت کی تھی وہ آزاد ہیں اور چلے جائیں (چاروں طرف سے بڑے زور کے ساتھ آوازیں آئیں کہ ہم نے خدا تعالیٰ کی دی ہوئی خلافت سمجھ کر بیعت کی تھی۔ مولوی احسن کے لئے نہیں کی تھی لیکن اگر آپ لوگوں نے خدا تعالی کے لئے کی تھی اور اسی خانہ خدا میں کی تھی یا باہر سے خطوط کے ذریعہ کی تھی تو پھر کوئی انسان آپ لوگوں میں سے پھر نہیں سکتا اور یقینا نہیں پھر سکتا اور جو پھرے گا وہ دیکھ لے گا کہ ایک کے جانے سے خدا تعالیٰ جماعت در جماعت ہم میں شامل کر دے گا۔ اور ہماری تائید میں اس قدر نشانات دکھلائے گا کہ دنیا حیران رہ جائے گی۔ اور اگر وہ غیر احمدیوں کی طرح قرآن کریم کی آیتوں کا انکار نہ کرتے جائیں تو اور بات ہے لیکن اس آیت کا ان کے پاس کیا جواب ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے او لَمْ يَرَوْا أَنَّا نَاتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الرع:۲۴) کہ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو کم کرتے آتے ہیں اس کی اطراف سے۔ یعنی ان میں چاروں طرف سے لوگوں کو داخل کرتے جاتے ہیں۔ کیا خدا تعالیٰ کی یہ عملی شہادت ہماری صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ کیا ان چند ایک کے نکالے جانے کے بعد خدا تعالیٰ نے چاروں طرف سے ہزار ہائے ہم میں داخل نہیں گئے۔ اور کیا ہندوستان سے باہر ، سیلون ، نائجیریا، انگلینڈ اور ماریشس میں ہماری نئی جماعتیں نہیں قائم ہو گئیں ۔ اور اس خطہ زمین میں جہاں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا نام لینا سم قاتل ہے۔ اور جہاں کہ آزادی کے نعرے مارے جاتے ہیں اس میں رہنے والے لوگ بھی ہماری بیعت میں داخل نہیں ہو گئے ہیں (جس کے معنی بیچ دینے کے ہیں) اس بات کے ہوتے ہوئے کیا ہو سکتا ہے کہ وہ ہم پر غالب آجائیں۔ ہرگز نہیں۔ وہ دن بدن مغلوب ہوتے جائیں گے اور ایک دن وہ آئے گا جبکہ ان کا عدم و وجود برابر ہو جائے گا۔ اگر ان میں سے کسی کا خیال ہے کہ وہ کامیاب ہو جائیں گے تو یہ ایک باطل خیال ہے۔ مولوی محمد احسن صاحب کے ان میں شامل ہونے کے متعلق مجھے خدا تعالیٰ نے پہلے ہی خبر دے دی تھی۔ ایک سال کا عرصہ ہوا مجھے بتایا گیا تھا کہ ایک شخص محمد احسن نامی نے قطع تعلق کر لیا ہے۔ پھر ابھی چند ہی دن ہوئے جبکہ مولوی محمد احسن ابھی امروہہ میں ہی تھے اور میری طرف فضل عمر فضل عمر کر کے انکی طرف سے خط آ رہے تھے۔ اور مجھے لکھتے تھے کہ مجھ میں اور