انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 394

انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۹۴ پیغام صلح کے چند الزامات کی تردید آہستہ زمین فروخت کر کے پھر روپیہ واپس مل جائے گا اس بات کو منظور فرمالیا اور ساڑھے بائیس سو روپیہ ان سے ملا۔ اسی طرح اپنی دونوں بیویوں کو بھی میں نے تحریک کی اور انہوں نے اپنے زیور فروخت کر کے اور کوئی اڑھائی سو روپیہ اپنے مہروں سے ڈال کر پندرہ سو روپیہ دیا۔ باقی ساڑھے بائیس سو روپیہ میں نے بعض ایسی امانتوں میں سے جن کے رکھنے والوں نے مجھے اجازت دی ہوئی ہے کہ میں جہاں چاہوں ان کا روپیہ خرچ کر سکتا ہوں۔ اور وہ اپنی ضرورت کے وقت لے لیں گے دیا اور اس طرح چھ ہزار روپیہ پورا کر کے گورداسپور بھیجا گیا۔ زیور لاہور اور امرتسر میں فروخت ہوا چاہو تو ان دونوں کے پتہ اور ان آدمیوں کے نام بھی لکھے جاسکتے ہیں کہ جہاں اور جنگی معرفت وہ زیور فروخت ہوا۔ زیور کے علاوہ جو ساڑھے بائیں سو روپیہ دیا گیا وہ بھی ایک چیک کے ذریعہ جو ڈاکٹر فضل کریم صاحب ممباسہ کا تھا اور میرے پاس انہوں نے بطور امانت بھیجا تھا اور اجازت دی تھی کہ میں اسے ضرورت پر خرچ کر سکتا ہوں لاہور سے ہی منگوا لیا تھا اس کی نسبت بھی لاہور سے ہی پتہ لیا جاسکتا ہے بقیہ بارہ ہزار روپیہ کے متعلق شیخ مختار احمد صاحب بیرسٹر جو اس وقت اپنے بھائی شیخ محمد عمر صاحب کے ساتھ (جو امر تسر کے ایک مشہور وکیل ہیں) شملہ گئے ہوئے ہیں دریا دریافت کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ایک ماہ کے وعدہ پر یہ روپیہ دیا ہے جس کی میعاد ستمبر کے اخیر میں ختم ہوتی ہے اور اس عرصہ میں وعدہ کے مطابق رقم ادا کر دینے کا خدا تعالیٰ نے یہ بندوبست فرمادیا ہے کہ جماعت کے چند مخلصین نے کچھ عرصہ کے لئے یہ رقم بطور قرض دینے کا وعدہ کیا ہے چنانچہ میاں نبی بخش صاحب سود اگر پشمینہ نے جو حضرت مسیح موعود کے نہایت دیرینہ مخلصین میں سے ہیں اس روپیہ میں سے جس قدر روپیہ کی ضرورت ہو چند ماہ کے لئے ادا کر دینے کا وعدہ کیا ہے اور ساڑھے تین ہزار روپیہ وہ بھیج بھی چکے ہیں میاں محمد طفیل و میاں فضل حق صاحبان بٹالہ نے ایک ہزار روپیہ اس کام کام ۔ کے لئے دیا ہے اور شیخ رحمت اللہ صاحب سب ڈو ڈویژنل افسر پشاور نے دو ہزار روپیہ بھیجنے کے متعلق تحریر فرمایا ہے اور ان میں سے سوائے ایک کے باقی وہ دوست ہیں جنہوں نے بلا میری طرف سے اشارہ کے ابتداء خود اس کام میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اور گو بعد میں ان سے میں نے خط و کتابت کی۔ لیکن ابتداء انہوں نے خود کی اور اپنے اخلاص کا ثبوت دیا ہے۔ اس قرضہ کی ادائیگی کے لئے بھی میں ساتھ کے ساتھ کوشش کر رہا ہوں اور ایک سکھ زمیندار نے وعدہ کیا ہے کہ وہ نو ہزار روپیہ تک کی زمین گروی رکھ لیں گے اسی طرح بعض