انوارالعلوم (جلد 3) — Page 386
انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۸۶ پیغام صلح کے چند الزامات کی تردید نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة وا ة والسلام کے سب منکر کافر نہیں مگر مہ مگر میرے نزدیک سب کافر ہیں اور وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ حدیث کی رو سے مسلم کو کافر کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے پس جبکہ میں ان کے مسلمہ مسلمانوں کو کافر سمجھتا ہوں تو ان کے نزدیک کافر ہوں اور اس صورت میں ان کو مجھ سے مباہلہ کرنے میں کیا اعتراض ہو سکتا ہے اور اگر کہو کہ نہیں باوجود تمہارے غیر احمدیوں کو کافر کہنے کے پھر بھی کسی نہ کسی طریق سے وہ تم کو مسلمان ہی خیال کرتے ہیں تو میرا یہ جواب ہے کہ تب پھر میرا مباہلہ کا چیلنج بھی نہیں۔ کیونکہ وہ تو اسی خیال پر ہے کہ وہ مجھے کافر خیال کرتے ہیں۔ شائد اس جگہ کسی کو خیال گزرے کہ مولوی محمد علی صاحب اگر کافر نہیں کہتے اور ان سے مباہلہ نہیں ہو سکتا تو کیوں محمد یا مین سے مباہلہ نہیں کر لیا جاتا۔ اس کا ایک جواب تو میں پہلے دے آیا ہوں۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ احمدیوں میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو مولوی محمد علی صاحب کو کا فریقین کرتے ہیں تو کیا مولوی محمد علی صاحب ان سے مباہلہ کریں گے۔ اگر وہ ایسے لوگوں سے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہیں تو میں ایسے اشخاص مباہلہ کے لئے پیش کر سکتا ہوں جب وہ ان لوگوں سے جو انکو کافر سمجھتے ہیں مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہونگے تو میں بھی محمد یامین سے مباہلہ کرنے کے لئے آمادہ ہو جاؤنگا کیونکہ اس دو طرفہ مباہلہ میں وہ بات بھی حل ہو جائے گی کہ ایسے اشخاص میں مباہلہ ہو جن کا اثر کسی جماعت پر پڑتا ہے۔ شاید مولوی صاحب اس جگہ پر یہ سوال اٹھائیں کہ گو بعض لوگ مجھے کافر کہیں لیکن میں تو ان کو کافر نہیں کہتا۔ میں وسعت حوصلہ سے کام لیتا ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو مولوی صاحب یہ کہہ نہیں سکتے۔ کیونکہ وہ بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ حدیث کی رو سے صرف وہ اہل قبلہ کافر ہو سکتے ہیں جو دوسرے کو کافر کہیں۔ پس اس عقیدہ کے رکھتے ہوئے اگر مولوی صاحب اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں تو ان لوگوں کو انہیں کافر سمجھنا پڑے گا اور اگر وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں سمجھتے تو یہ اور بات ہے ہر شخص اپنے عقائد کا ذمہ دار ہے۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ دوسرے محمد یامین کی نسبت میرا بھی یہی دعوی ہے کہ میں اسے کافر نہیں سمجھتا۔ اور میرے پاس اس کی دلیل بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ میں اسے ایک قسم کا مجنون سمجھتا ہوں اور ایک قسم سے میری یہ مراد ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے نہیں کہ جو بالکل پاگل ہو جاتے ہیں لیکن اسے مینیا ہے جیسا کہ اس کے اہل وطن بھی شہادت دیتے ہیں چنانچہ سید سرور شاہ صاحب داتوی جو غیر مبالعین میں سے ہیں