انوارالعلوم (جلد 3) — Page 363
انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۶۳ سیرت مسیح موعود چیز ان کے مذہب) پر گندے الفاظ میں حملہ کیا جاوے تو جاہل عوام کو گورنمنٹ سے بدظن کرنے کے لئے اس قدر کہہ دینا کافی ہے کہ سارا قصور گورنمنٹ کا ہے جس کے ماتحت ہمیں اس قدر دکھ دیا جاتا ہے۔ اور وہ لوگ اس ظالم کا پیچھا چھوڑ کر محسن گورنمنٹ کے سر ہو جاتے ہیں۔ ۱۸۹۸ء میں ایک عیسائی مرتد نے حضرت نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے خلاف ایک نہایت دل آزار کتاب شائع کی جس سے مسلمانوں میں ایک جوش پیدا ہو گیا۔ حضرت مسیح موعود نے دیکھا کہ یہ ملک کے امن پر اثر انداز ہو گا۔ لاہور کی ایک انجمن نے گورنمنٹ کے حضور اس کتاب کی ضبطی کے لئے میموریل بھیجنے کی تیاری کی لیکن آپ نے منع فرمایا کہ اس کا نتیجہ مفید نہ ہو گا اور مشورہ دیا کہ اس کا ایک زبردست جواب لکھا جائے ۔ مگر انجمن والوں نے اس مشورہ کی قدر نہ کی جس پر آخر انہیں اس طرح ناکام رہنا پڑا جیسے آپ نے ان کو قبل از وقت بتلا دیا تھا۔ خود حضرت نے اس میموریل کی اعلانیہ مخالفت کی کیونکہ اصولی طور پر اس میموریل کا انجام بصورت منظوری یہ ہونا چاہئے تھا کہ اسلام کا ضعف ہو۔ آپ نے جواب دینے کے طریق کو مقدم کیا اور گورنمنٹ نے آپ کے میموریل کو قدر کی نظر سے دیکھا۔ اس طرح پر آپ نے مسلمانوں کے ایک جائز حق کی حفاظت کی جو انہیں تبلیغ اسلام اور اپنے مذہب کے خلاف لکھنے والوں کے جواب دینے کا تھا۔ اسی سال آپ نے اپنی جماعت کے جماعت کی شیرازہ بندی اور مخالفین کی ناکامی شیرازہ کو مضبوط کرنے اور خصوصیات سلسلہ کے قائم رکھنے کے لئے جماعت کے تعلقات ازدواج اور نظام معاشرت کی تحریک کی اور جماعت کو ہدایت فرمائی کہ احمدی اپنی لڑکیاں غیر احمدیوں کو نہ دیا کریں۔ اسی سال گورنمنٹ کو بھی آپ نے نشان بینی کی دعوت دی دراصل اس ذریعے سے آپ کو معمال حکومت تک اپنی تبلیغ کامل طور سے پہنچا دینا مقصود تھا جو علی وجہ الا تم پورا ہو گیا۔ ۱۸۹۸ء میں آپ نے اپنی جماعت کے بچوں کے لئے ایک ہائی سکول کی بنیاد رکھی جس میں اپنی جماعت کے طلباء چاروں طرف سے آکر پڑھیں۔ جس کی غرض یہ تھی کہ دو کہ دوسرے سکولوں کے اثرات سے محفوظ رہیں پہلے سال یہ سکول صرف پرائمری تک تھا لیکن ہر سال ترقی کرتا چلا گیا اور ۱۹۰۳ء میں میٹریکولیشن کے امتحان میں اس کے لڑکے شامل ہوئے۔