انوارالعلوم (جلد 3) — Page 12
انوار العلوم جلد ۳۰ ۱۲ چند غلط فہمیوں کا ازالہ نبوت نہیں بلکہ انبیاء کے نبی کہلانے کی کوئی اور وجہ تھی اور یا یہ ثابت کریں کہ حضرت مسیح موعود کو اس کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع نہیں دی گئی جس کثرت سے نبی ہونے کے لئے ضروری ہے۔ مگر وہ یاد رکھیں کہ وہ ایسا ہرگز نہیں کر سکتے کیونکہ حضرت مسیح موعود ایک طرف تو یہ فرماتے ہیں اور جبکہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے" (الوصیت صفحہ ۱۳ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۱) اسی طرح فرماتے ہیں " ہر ایک شخص اپنی گفتگو میں ایک اصطلاح اختیار کر سکتا ہے لِكُلِّ ان يصطلح کو خدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے " (چشمہ معرفت صفحہ ۳۲۵، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۴۱) ९९ اور دوسری طرف یہ فرماتے ہیں کہ اگر کہو کہ اس وحی کے ساتھ جو اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کو ہوئی تھی معجزات اور پیشگوئیاں ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اکثر گذشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیشگوئیاں موجود ہیں بلکہ بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیشگوئیوں کو ان معجزات اور پیشگوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں" (نزول المسیح صفحه ۸۴ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۶۰) ان تینوں حوالوں کو ملا کر پڑھو تو کیسا صاف ثابت ہو جاتا ہے کہ نبی خدائے تعالی اور اس کے نبیوں کی اصطلاح میں اسے کہتے ہیں کہ جو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پائے (اور قرآن کریم بھی فَلَا يُظهِرُ عَلَى غَيْبِہ کی آیت کے ماتحت ایسے ہی شخص کو نبی کہتا ہے) اور یہ کہ حضرت مسیح موعود کو اکثر گذشتہ انبیاء کی نسبت امور غیبیہ پر بہت زیادہ اطلاع دی گئی ہے جس کے معنی دوسرے دو الفاظ میں یہ ہیں کہ آپ یقینا یقیناً بلا بلا ریب بلحاظ نبوت ویسے ہی نبی ہیں جیسے پہلے انبیاء تھے ہاں بلحاظ خصوصیات کے یہ بات بالکل درست ہے کہ پہلے نبیوں میں سے بعض شریعت لائے لائے ، لیکن لیکن آ۔ آپ کوئی شریعت نہیں لائے لائے ! اور یہ کہ آنحضرت ا ہے پہلے انبیاء بلا واسطہ نبوت پاتے تھے مگر آنحضرت ا کے بعد اس کی کوئی ضرورت نہ تھی اس لئے حضرت مسیح موعود نے نبوت کا درجہ آپ کی غلامی میں پایا اور اگر دیکھنے والی آنکھ ہو تو وہ