انوارالعلوم (جلد 3) — Page 352
انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۵۲ سیرت مسیح موعود لکھائے اور سنانے چاہے۔ لیکن چونکہ مولویوں نے لوگوں کو یہ سنا رکھا تھا کہ یہ شخص نہ قرآن کو مانے نہ حدیث کو نہ رسول کریم کو ۔ انہیں یہ فریب کھل جانے کا اندیشہ ہوا اس لئے لوگوں کو اکسا دیا۔ پھر کیا تھا ؟ ایک شور برپا ہو گیا ۔ اور محمد یوسف صاحب کو وہ کاغذ سنانے سے لوگوں نے باز رکھا۔ افسر پولیس نے جب دیکھا کہ حالت خطر ناک ہے تو پولیس کو مجمع منتشر کرنے کا حکم دیا ۔ اور اعلان کیا کہ کوئی مباحثہ نہ ہو گا لوگ تتر بتر ہو گئے۔ پولیس آپ کو حلقہ میں لیکر مسجد سے باہر لے گئی دروازہ پر گاڑیوں کے انتظار میں کچھ دیر ٹھرنا پڑا۔ لوگ وہاں جمع ہو گئے اور اشتعال میں آکر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔ اس پر افسران پولیس نے گاڑی میں سوار کرا کر آپ کو روانہ کیا۔ اور خود مجمع منتشر کرنے میں لگ گئے۔ اسکے بعد مولوی محمد بشیر صاحب کو دہلی کے لوگوں نے بھوپال سے بلوایا اور ان سے مباحثہ ہوا جس کا تمام حال چھپا ہوا موجود ہے۔ تشریف لے آئے۔ چند ماہ کے بعد ۱۸۹۲ء ڈپٹی عبداللہ آتھم سے مباحثہ کے حالات کچھ دن کے بعد آپ واپس قادیان میں پھر ایک سفر کیا پہلے لاہور گئے وہاں مولوی عبدالحکیم کلانوری سے مباحثہ ہوا وہاں سے سیالکوٹ رٹ اور وہاں سے جالندھر دھر اور اور پھر وہاں سے لدھیانہ تشریف لائے لائے ! لدھیانہ سے پھر قادیان تشریف لے آئے۔ اس کے بعد ۱۸۹۳ء میں حضور کا مباحثہ مسیحیوں سے قرار پایا اور مسیحیوں کی طرف سے ڈپٹی عبداللہ آتھم مباحث مقرر ہوئے۔ یہ مباحثہ امرتسر میں ہوا اور پندرہ دن تک رہا اور جنگ مقدس کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس مباحثہ میں بھی جیسا کہ ہمیشہ آپ کے مخالفین کو زک ہوتی رہی ہے مسیحی مناظرین کو سخت زک ہوئی اور اس کا نہایت مفید اثر ہوا۔ اس مباحثہ کے پڑھنے سے یہ مباحثہ تحریری ہوا تھا اور طرفین آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کے پرچہ کا جواب دیتے تھے اور وہ اصل تحریریں ایک کتاب کی صورت میں شائع کی گئی ہیں) معلوم ہوتا ہے کہ مسیحی مباحث آپ کے زبر دست استدلال سے تنگ آجاتا تھا اور بار بار دعوی بدلتا جاتا تھا اور بعض جگہ تو مسیحیوں کی طرف سے ناروا سخت کلامی تک کی گئی ہے۔ آپ نے اس جدید علم کلام کو پیش کیا کہ ہر ایک فریق اپنے مذہب کی صداقت کے دعاوی اور دلائل اپنی مسلمہ کتب سے ہی پیش کرے۔ اس مباحثہ میں ایک عجیب واقعہ گذرا جس میں دوست دشمن آپ کی خداداد ذہانت بلکہ الہی تائید کے قائل ہو گئے اور وہ یہ کہ گو بحث اور امور پر ہو رہی تھی مگر مسیحیوں نے آپ کو شرمندہ کرنے کے لئے ایک دن کچھ لولے لنگڑے