انوارالعلوم (جلد 3) — Page 332
انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۳۲ سیرت مسیح موعود میں قادی بن گیا۔ اور آخر اس سے بگڑ کر اس گاؤں کا نام قادیان ہو گیا۔ غرض مرزا ہادی بیگ صاحب نے خراسان سے آکر بیاس کے پاس ایک گاؤں بسا کر اس میں بودوباش اختیار کی اور اسی جگہ پر ان کا خاندان ہمیشہ قیام پذیر رہا۔ اور باوجود دہلی پایہ تخت حکومت سے دور رہنے کے اس خاندان کے ممبر مغلیہ حکومت کے ماتحت معزز عہدوں پر مأمور رہے۔ اور جب مغلیہ خاندان کو ضعف پہنچا اور پنجاب میں طوائف الملوکی پھیل گئی تو یہ خاندان ایک آزاد حکمران کے طور پر قادیان کے ارد گرد کے علاقہ پر جو قریباً ساٹھ میل کا رقبہ تھا حکمران رہا۔ لیکن سکھوں کے زور کے وقت رام گڑھیہ سکھوں نے بعض اور خاندانوں کے ساتھ مل کر اس خاندان کے خلاف جنگ شروع کی۔ اور گو ان کے پڑدادا نے تو اپنے زمانہ میں ایک حد تک دشمن کے حملوں کو روکا لیکن آہستہ آہستہ مرزا صاحب کے دادا کے وقت اس ریاست کی حالت ایسی کمزور ہو گئی کہ صرف قادیان جو اس وقت ایک قلعہ کی صورت میں تھا اور اس کے چاروں طرف فصیل تھی ان کے قبضہ میں رہ گیا اور باقی سب علاقہ ان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور آخر بعض گاؤں کے باشندوں سے سازش کر کے سکھ اس گاؤں پر بھی قابض ہو گئے اور اس خاندان کے سب مرد و زن قید ہو گئے۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد سکھوں نے ان کو اس علاقہ سے چلے جانے کی اجازت دے دی۔ اور وہ ریاست کپور تھلہ میں چلے گئے اور وہاں قریبا سولہ سال رہے۔ اس کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کا زمانہ آگیا اور انہوں نے سب چھوٹے چھوٹے راجوں کو اپنے ماتحت کر لیا اور اس انتظام میں حضرت مرزا صاحب کے والد کو بھی ان کی جاگیر کا بہت کچھ حصہ واپس کر دیا۔ اور وہ اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں ملازم ہو گئے ۔ اور جب انگریزی حکومت نے سکھوں کی حکومت کو تباہ کیا۔ تو ان کی جاگیر ضبط کی گئی مگر قادیان کی زمین پر ان کو مالکیت کے حقوق دیئے گئے۔ آپ کا خاندانی تذکرہ تاریخوں میں ان مختصر حالت کے لگنے کے بعد سرپل گریفن کی کتاب پنجاب چیفس کا وہ حصہ جو حضرت مرزا صاحب کے خاندان کے متعلق ہے ہم لکھ دینا مناسب سمجھتے ہیں۔ شہنشاہ بابر کے عہد حکومت کے آخری سال یعنی ۱۵۳۰ء میں ایک مغل مسمی ہادی بیگ باشندہ سمرقند اپنے وطن کو چھوڑ کر پنجاب میں آیا اور ضلع گورداسپور میں بود و باش اختیار کی۔ یہ گردونواح یہ کسی قدر لکھا پڑھا آدمی تھا اور قادیان کے گردو نواح کے ستر مواضعات کا قاضی یا مجسٹریٹ