انوارالعلوم (جلد 3) — Page 321
انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۲۱ نجات کی حقیقت پھر حضرت مسیح جب مسیح جان دینے پر رضامند نہ تھے۔ تو کفارہ کس طرح ہوا؟ کے متعلق بائبل میں آتا ہے کہ ۔ اس وقت اس نے ان سے کہا۔ میری جان نہایت غمگین ہے یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے تم یہاں ٹھہرو اور میرے ساتھ جاگتے رہو پھر تھوڑا آگے بڑھا اور منہ کے بل گر کر یہ دعا مانگی۔ اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے مل جائے ۔ (متی باب ۲۶ آیت ۳۸-۳۹ کبیر اس سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح کو مجبور اصلیب پر چڑھایا گیا ہے۔ باقی رہا یہ کہنا کہ روح تو مستعد ہے مگر جسم کمزور ہے تو جسم کو بچ جانا چاہئے تھا۔ کیونکہ وہ تو صلیب پر لٹکنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ مگر سزا اسی کو دی گئی۔ اب اگر حضرت مسیح کو چار و ناچار صلیب پر لٹکایا جانا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ گناہوں کے لئے کفارہ ہو گیا تو ہر ایک قوم کہہ سکتی ہے کہ ہمار ا فلاں انسان جو قتل کیا گیا تھا وہ ہمارے لئے کفارہ ہوا تھا۔ اس لئے یہ کوئی دلیل نہیں ہو سکتی۔ اور جب تک کسی بات کے متعلق دلائل نہ ہوں اس وقت تک وہ قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ مسیحی زمانی اور کفارہ میں فرق ہے پھر بھی صاحبان جب کوئی دلیل نہیں دے سکتے تو ہم پر اگر بکرا وغیرہ ذبح کرنے سے گناہ معاف ہو سکتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ خداوند یسوع مسیح کی قربانی ہمارے گناہوں کو معاف نہیں کراسکتی۔ لیکن یہ اعتراض کرتے وقت وہ قربانی اور حضرت مسیح کے صلیب پر دیئے جانے کے فرق کو مد نظر نہیں رکھتے ۔ ہم اگر کسی جانور کی قربانی کرتے ہیں تو یہ نہیں کہتے کہ اس نے ہمارے گناہ اٹھا لئے ہیں۔ اور ان گناہوں کی سزا میں اسے ذبح کیا جا رہا ہے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے مال کا کچھ حصہ اس طریق سے خدا تعالیٰ کی رضاء کے لئے الگ کر کے خدا تعالی سے ہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے گناہ معاف کر دے۔ میں اس بات کو اور واضح کر دیتا ہوں۔ جو چیز قربانی دی جاتی ہے وہ ہمارا مال ہوتا ہے۔ دوسرے ہم اسے خدا تعالیٰ کے لئے اپنے سے جدا کرتے ہیں۔ تیسرے خدا تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے اس فعل کی وجہ سے جو اس کی رضامندی کے لئے کیا گیا ہے ہمارے گناہ معاف کر دے گا۔ مگر یسوع مسیح کے مصلوب ہونے میں ان میں سے کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی ۔ (۱) نہ تو وہ ان لوگوں کا مال ہے جو اس کی قربانی پر اپنے گناہوں کا معاف ہونا سمجھے بیٹھے ہیں۔ (۲) نہ وہ اس کو قربانی کرنے والے سے تا ہم بھیا میں چاہتا ہوں۔ ویسا نہیں۔ بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ۔ ویسا ہی ہو ۔