انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 303

انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۰۳ نصائح مبلغین کر سنادے اور ان کو کتاب و حکمت سکھائے اور ان کا تزکیہ کرے تحقیق تو عزیز و حکیم ہے۔ یہ دعا قبول ہوئی اور ایک رسول مبعوث ہوا جس نے اکھڑ سے اکھر قوم میں فرمانبرداری کی روح پیدا کر دی۔ انبیاء کا ہاتھ خدائے قدوس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اس لئے جو ان سے تعلق پیدا کرتا ہے وہ بھی پاک کیا جاتا ہے۔ ان کی مثال بجلی کی بیڑی سی ہے کہ جس کا ذرا بھی تعلق اس کے ساتھ ہوا وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہا۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ ہزاروں ٹمپرنس سوسائٹیاں اتنے سالوں سے کام کر رہی ہیں ان کا کوئی قابل ذکر فائدہ نہیں۔ مگر محمد رسول اللہ ا کے دربار سے ایک آواز اٹھتی ہے اور تمام بلا استثناء شراب کے مٹکے لنڈ ہا دیتے ہیں۔ مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ دنیا کے ادنی نفع کے لئے دین کو متأخر کرنے پر تیار ہیں مگر انہی مسلمانوں میں سے عبد اللطیف " ایک نبی کے ہاتھ میں اپنا ہا تھ میں اپنا ہاتھ دیتا ہے اور پھر دین پر اپنی جان تک قربان کر دیتا ہے۔ امیر کابل کی طرف سے ایماء ہوتا ہے کہ صرف ظاہرداری کے لئے کہدو میں مرزا کو مسیح نہیں مانتا مگر وہ سنگسار ہونا پسند کرتا ہے اور یہ کلمہ زبان پر نہیں لاتا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس لئے کہ وہ آسمانی ذریعہ سے پاک کیا گیا۔ ہے۔ وا دوسرا ذریعہ زمینی ہے۔ جس سے مراد انسان کا اپنی طرف سے مجاہدہ ہے۔ اس وقت روح انسانی کی حالت اس گھوڑے کی طرح ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ سدھایا جاتا ہے۔ اس لئے فرماتا وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا - (العنکبوت : ۷۰) جو ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ۔ ہم انہیں رستے دکھا دیتے ہیں۔ ان مجاہدات میں سے چند کا ذکر اس جگہ کیا جاتا ہے اول صحبت صادقین ۔ صادقین کی صحبت ایسی ہے کہ اس کے ذریعہ انسان پاک کیا جاتا ہے۔ صحبت کا اثر ایک مانی ہوئی بات ہے۔ لوگ اکسیر کو تلاش کرتے پھرتے ہیں میرے نزدیک دنیا میں اگر کوئی اکسیر ہے تو صحبت صادقین۔ مبارک وہ جو اس سے فائدہ حاصل کریں۔ اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُو اللَّهَ كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ ، (التوبہ : (۱۱۹) یعنی اے مومنو! تقوی اختیار کرو۔ اور اس تقویٰ کے حصول کا ذریعہ کیا ہے۔ یہ کہ تم صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ صادقوں میں ایک برقی اثر ہوتا ہے۔ جس سے گناہوں کے جراثیم مارے جاتے ہیں۔ صادق خدا کے حضور ایک عزت رکھتا ہے۔ اس کے طفیل صادق سے تعلق رکھنے والا بھی باریاب ہو جاتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ اپنے ایک بھانجے پر اس لئے ناراض ہو ئیں کہ وہ ان کے بہت صدقہ کرنے کا شاکی تھا۔ آپ نے حکم فرما