انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 283

انوار العلوم جلد ۳۰ ہوتا ہے۔ ۲۸۳ اسلام اور دیگر مذاہب علاوہ ازیں اسلام کی یہ تعلیم بھی ہے کہ مساجد میں کوئی بد بو دار شے کھا کر یا ایسی چیز استعمال کر کے نہ آؤ جس کے بعد بد بودار ڈکار آئیں یا مونہہ سے بو آئے (مسلم کتاب الصلوۃ باب النھی اكل الثوم) انہی تعلیمات میں سے ہے جن کی غرض عام بنی نوع انسان پر شفقت ہے کیونکہ ایسا کرنے سے بہت سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے اور مساجد کا نام تو اس لئے لیا گیا ہے کہ مسلمانوں کا اجتماع مساجد میں ہی ہوتا ہے ورنہ یہ حکم عام ہی ہے۔ اور یہ ایسا ضروری حکم ہے کہ آج حکام ریلوے کو یہ قانون بنانا پڑا ہے کہ ریل میں کوئی شخص سگرٹ نہ بنے کیونکہ اس سے سکھوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ اگر اسلام ہی کی تعلیم پر عمل کیا جائے تو ان باتوں کے لئے کسی مزید قانون کی ضرورت نہیں اور جو اثر انسان کے اعمال پر مذہب کر سکتا ہے قانون ہرگز نہیں کر -CE پھر انہی تعلیمات میں سے ایک یہ تعلیم بھی ہے کہ جب کسی جگہ پر کوئی وباء پڑے تو لوگوں کو اجازت نہیں کہ اس جگہ سے بھاگ کر دوسرے شہروں میں چلے جائیں (مسلم کتاب السلام باب الطاعون) کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دوسرے محفوظ علاقوں میں بھی وہ مرض پھوٹ پڑے گا۔ اس حکم کی خوبی پچھلے دنوں ہندوستان کافی طور پر دیکھ چکا ہے کیونکہ طاعون کی کثرت ہندوستان میں اسی حکم پر عمل نہ ہونے کے باعث ہوتی ہے جب ایک جگہ طاعون پڑی تھی تو وہاں کے لوگ بھاگ کر دوسرے شہروں میں چلے جاتے تھے اور طاعون کا اثر وہاں بھی ہو جاتا تھا۔ اگر ہندوستان مسلمان ہوتا اور وہ اس حکم پر عمل کرتا تو سمجھ سکتے ہو کہ یہ وباء کس طرح دبی رہتی۔ اس حکم کا یہ مطلب نہیں کہ شہر کو چھوڑ کر باہر ڈیرہ لگانا بھی منع کر دیا گیا ہے کیونکہ سنت صحابہ سے یہ بات ثابت ہے کہ طاعون وغیرہ وباؤں کے وقت جنگلوں میں پھیل جانا چاہئے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایک وباء زدہ شہر سے نکل کر دوسرے محفوظ علاقوں میں نہیں جانا چاہئے۔ اسی طرح اسلام بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے یہ حکم بھی دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص عام راستہ پر کوئی ایذاء دینے والی چیز دیکھے تو اسے چاہئے کہ اسے راستہ سے ہٹا کر پرے کر دے۔ مثلاً عین راستہ میں کوئی پتھر پڑا ہے کانٹے دار درخت کی شاخیں پڑی ہیں جن سے چلنے والوں کے گرنے یا زخمی ہونے کا خطرہ ہے تو چاہئے کہ ان کو وہاں سے ہٹا کر ایک طرف کر دیا جائے۔