انوارالعلوم (جلد 3) — Page 254
انوار العلوم جلد ۳۰ ۲۵۴ اسلام اور دیگر راہب ایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں کہ کسی شخص کو کوئی سخت صدمہ پہنچا تو چند گھنٹوں یا چند دنوں کے اندر اس کے بال سفید ہو گئے۔ غرض ہمارا تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ جسم و روح کو خدائے تعالٰی نے ایسا ایک دوسرے سے پیوستہ کیا ہے کہ ایک کا اثر دوسرے پر فورا پڑتا ہے پس جب کہ جسم و روح کے قرب کی یہ حالت ہے تو ضرور ہے کہ جو حالت جسم کی ہوگی وہی حالت روحانی ترقیات کی ہوگی اور جو مذہب کہ انسان کو یہ نہیں بتاتا کہ اسے اپنے جسم کے ساتھ کیسا معاملہ کرنا چاہئے وہ در حقیقت انسان کو منجدھار دیتا ہے کہ تا ہلاک ہو اور جو مذہب اس کے متعلق ادھوری تعلیم دیتا ہے وہ بھی کسی خاص حالت میں تو درست ہو سکتی ہے لیکن ہر انسان کے لئے نہیں بلکہ اغلب ہے کہ بہتوں کی ہلاکت کا باعث ہو چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مذاہب کی یہ تعلیم ہے کہ جسم کو جس قدر بھی رکھ دیا جائے اس قدر روحانیت میں ترقی ہوتی ہے۔ اس تعلیم کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ان کے پیروان اپنے پورے زور سے اپنی جسمانی طاقتوں کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسے ذرائع استعمال کرتے ہیں کہ جن کے ذریعہ سے وہ اپنے جسم کو بالکل تباہ کر دیں چنانچہ بعض لوگ گرمی کے دنوں میں ہر وقت آگ کا آلاؤ لگا کر اس کے اندر بیٹھے رہتے ہیں اور اس طرح اپنے جسم کی تمام طاقتوں کو اپنے ہاتھوں سے زائل کر دیتے ہیں۔ اسی طرح سردی میں ٹھنڈے پانی میں کھڑے رہتے ہیں۔ بعض سورج کے نکلتے ہی اس کی طرف ٹکٹکی لگا کر کھڑے رہتے ہیں اور اس طرح اس منور دن کو جو کو جو خدائے تعالیٰ نے کام کرنے کے لئے پیدا کیا ہے ضائع کر دیتے ہیں بعض ہر وقت ٹانگیں اوپر کر کے اور سر نیچے کر کے لٹکے رہتے ہیں اور اس کو بڑی خوبی خیال کرتے ہیں۔ بعض اپنے آپ کو خصی کرا کے انسانیت کے دائرہ سے باہر نکال دیتے ہیں۔ بعض نفس کشی کے نام سے ہر قسم کی طیبات سے پر ہیز کرتے ہیں اور کل لطیف غذا میں ترک کر دیتے ہیں اور اگر کوئی لطیف سے کھاتے بھی ہیں تو اس کے اندر کچھ ایسی چیز ملا دیتے ہیں جیسے راکھ وغیرہ اور اس طرح اپنا نفس مارتے ہیں بعض لوگ ہر وقت خاموش رہتے ہیں اور اس طرح خدائے تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بعض نجاستیں کھا لیتے ہیں۔ بعض مردہ انسان کا گوشت کھاتے ہیں۔ بعض ہر روز روزہ رکھتے ہیں۔ بعض لوگ یہ نیت کر لیتے ہیں کہ ساری عمر شادی نہیں کریں گے اور بہت سے مرد اور عورتیں اپنی عمریں اسی طرح گزار دیتے ہیں۔ بعض لوگ نہانا اور ناخن کتروانا وغیرہ صفائی کے کام چھوڑ دیتے ہیں غرض اس قسم کے سینکڑوں کام ہیں جو مختلف مذاہب میں بتائے گئے ہیں اور انہیں پسند کیا جاتا