انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 252

انوار العلوم جلد - ۳ ۲۵۲ اسلام اور دیگر راہب طرح کیا گیا لیکن جب ایک مدت کے بعد مسیحیوں کا میلان بالکل دوسری طرف ہو گیا اور وہ اعمال سے غافل ہونے لگے تو پھر ایک اور شریعت کی ضرورت ہوئی اور یہی حال دیگر مذاہب کا ہے کہ ان میں سے کسی مذہب میں ضرور تا خدائے تعالیٰ کے غضب اور انتقام کی صفات پر زور جب حالات دیا گیا ہے اور کسی میں اس کی محبت اور پیار پر اور چونکہ یہ تمام تعلیمیں وقتی تھیں جب بدل گئے تو بجائے نفع رسانی کے نقصان دہ ہو گئیں اور اب چونکہ وہ وقت آگیا تھا جسے اللہ تعالیٰ کی حکمت کاملہ نے ایک کامل اور عالمگیر مذہب کیلئے پسند فرمایا تھا اس لئے نبیوں کے سردار اور نیکوں کے پیشوا محمد ال پر وہ وحی نازل کی گئی جو ایسی جامع اور مانع تھی کہ کسی طبیعت اور کسی تعلیم اور کسی تہذیب کے آدمیوں کی ضرورت اس میں نظر انداز نہیں کی گئی اور نہ کوئی غیر ضروری اور وقتی بات اس میں داخل کی گئی۔ پس ہم ان نادانوں کی طرح جو اپنے خبث کا اظہار خدائے تعالی کے پاک بندوں کو گالیاں دے کر کرتے ہیں یہ نہیں کہتے کہ اسلام سے پہلے کے سب مذاہب چھوٹے تھے بلکہ ہم ان کو سچا تسلیم کرتے ہیں ۔ ہاں واقعات اور حق کی محبت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اس بات کو تسلیم کریں کہ جو جامعیت اسلام میں ہے وہ کسی مذہب میں نہیں اور یہ کہ اسلام کے آنے کے بعد اب اور کسی مذہب کی ضرورت نہیں۔ ان مذاہب نے خدائے تعالی سے تعلق پیدا کرنے کے لئے جو تدابیر اختیار کی تھیں وہ اپنے وقت کے مطابق درست تھیں لیکن اب اس زمانہ میں جبکہ تمدن کی ترقی نے سب دنیا کو ایک کر دیا ہے اور انسانی علوم بہت ترقی کر چکے ہیں وہ انسان کی ہدایت کیلئے کافی نہیں ہو سکتیں اور اس وقت اسلام ہی ہے جو اپنی بے عیب تعلیم کی وجہ سے تمام دنیا کی ہدایت کر سکتا ہے اور جس کی تعلیم کسی خاص بات پر زور نہیں دیتی بلکہ تمام ضروری ہدایتوں کو کھولتی اور شرح کرتی ہے۔ مختلف مذاہب اپنے اندر مختلف صداقتیں رکھتے ہیں لیکن کوئی ایسا مذہب نہیں جو یکجائی طور پر ان تمام خوبیوں کا جامع ہو جو اسلام کے اندر پائی جاتی ہیں پس آج روئے زمین پر سوائے اسلام کے اور کوئی ایسا مذہب نہیں جو انسان کا تعلق خدائے تعالیٰ سے پیدا کرا سکے اور اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے کامل شریعت بھیج دی ہے تو اس نے اپنی رضا کے اظہار کے لئے اسلام کے سوا اور تمام دروازے بند کر دیتے ہیں اور کوئی شخص اب خدائے تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ اسلام کا جوا اپنی گردن ردن پر نہ اٹھائے۔ افسوس ہے کہ قلت وقت کی وجہ سے اس موضوع پر بالتفصیل بحث نہیں ہو سکتی ورنہ اور بہت سی مثالوں کے ساتھ بتایا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے