انوارالعلوم (جلد 3) — Page 211
انوار العلوم جلد ۳۰ ۲۱۱ انوار خلافت محمد مہدی آئے گا۔ اور سب سے یہ آپس کے اختلاف اور لڑائی جھگڑوں کے بند کرنے اور ایک مذہب پر قائم کرنے کے لئے کہلایا جا رہا تھا۔ ہندو مسلمان ، عیسائی اور یہودی سب آپس میں جھگڑتے تھے اور ہر ایک کی چاہتا تھا کہ دوسرے کو برباد کر دے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے اس لڑائی جھگڑے کو دور کرنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ہر ایک قوم سے ایک ایک پنچ مقرر کرا دیا اور ہر ایک کو فرما دیا کہ تمہارا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ مولانا روم اپنی مثنوی میں ایک قصہ لکھتے ہیں کہ چار آدمی کہیں جا رہے تھے ایک امیر نے انہیں کچھ پیسے دیئے ان میں سے ایک نے کہا کہ ہم انگور لے کر کھائیں گے۔ دوسرے نے کہا انگور نہیں عنب لیں گے۔ تیسرے نے کہا نہیں عنب بھی نہیں راکھ لیں گے۔ چوتھے نے بھی ان تینوں کے خلاف اپنی زبان میں انگور کا نام لے کر کہا کہ نہیں فلاں چیز لیں گے۔ اس طرح وہ چاروں ایک دوسرے کی بات نہ مانے اور خوب آپس میں لڑے۔ ایک شخص پاس سے گزر رہا تھا اس نے کہا کیا بات ہے مجھے بتاؤ میں فیصلہ کرتا ہوں۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی بات بتائی اس نے کہا لاؤ میں سب کو مطلوبہ شے لا دیتا ہوں وہ پیسے لے کر انگور خرید لایا اور ان کے سامنے رکھ دیئے وہ سارے ان کو دیکھ کر خوش ہو گئے اور کھانے لگ گئے۔ اسی طرح خدا تعالٰی نے جو حضرت کرشن ، حضرت با ، حضرت بدھ ، حضرت مسیح اور آنحضرت ﷺ کی زبان سے ان کے دوبارہ آنے کے متعلق پیشگوئی کرائی تھی وہ بھی جب پوری ہوئی تو ایک ہی آدمی کے حق میں نکلی وہ کرشن بھی تھا، وہ بدھ بھی تھا وہ مسیح بھی تھا، اور وہ محمد " بھی تھا۔ خدا تعالیٰ نے ہر ایک قوم کی طرف سے ایک ایک پنچ مقرر کیا تھا جس کے فیصلہ کے حق ہونے پر وہ یقین رکھتے تھے اور اسے قبول کرنے کے لئے تیار تھے۔ چنانچہ جب ہندوؤں نے کہا کہ کرشن ہمارا سردار ہے جو کچھ وہ کہے ہم اس کے ماننے کے لئے دل و جان سے تیار ہیں۔ تو خدا تعالیٰ نے کہا کہ اس کو دوبارہ بھیجا جائے گا۔ اسی طرح بدھوں نے کہا کہ بدھ ہمارا آتا ہے جو کچھ وہ کے اس کے ماننے سے ہمیں ذرا بھی انکار نہیں ہو سکتا تو خدا نے کہا کہ اسی کو دوبارہ بھیجا جائے گا۔ اسی طرح جب عیسائیوں نے کہا کہ حضرت مسیح کی ہر ایک بات ہم دل و جان سے مانتے ہیں تو خدا نے کہا کہ اسی کو بھیجا جائے گا۔ اور اسی طرح مسلمانوں نے کہا کہ آنحضرت ﷺ ہمارے ہادی اور راہنما ہیں ان کے مونہہ سے نکلی ہوئی ہر ایک بات کا ماننا ہم پر فرض ہے تو خدا تعالٰی نے کہا کہ انہی کو ہم دوبارہ مبعوث فرمادیں گے۔ یوں خدا تعالیٰ نے ان قوموں سے ان پنچوں کو قبول کروالیا ۔ تاکہ جب یہ آئیں تو ان کے فیصلہ کو ماننے میں انہیں