انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 192

انوار العلوم جلد ۳۰ ۱۹۲ انوار خلافت ہو کرزی ۔ جس کا پہلے ذکر آچکا ہے) نے ان کو بٹھا دیا ۔ پھر زید بن ثابت کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا مجھے قرآن کریم دو ان کا منشاء بھی ان لوگوں کے خلاف گواہی دینے کا تھا، مگر باغیوں میں سے ایک شخص نے ان کو بھی بٹھا دیا اور پھر اس خیال سے کہ ایسا نہ ہو صحابہ اسی طرح گواہی دے دے کر ہمارا ملعون اور خلاف قرآن امور پر عامل ہونا ظاہر کر دیں پتھر مار مار کر صحابہ کو مسجد سے باہر نکال دیا اور اس کے بعد حضرت عثمان پر پتھر پھینکنے شروع کئے جن کے صدمہ سے وہ بیہوش رزمین پر جا پڑے ۔ جس پر بعض لوگوں نے آپ کو اٹھا کر آ۔ ر آپ کے گھر پہنچا دیا ۔ جب صحابہ کو حضرت عثمان کا حال معلوم ہوا تو باوجود اس بے بسی کی حالت کے ان میں سے ایک جماعت لڑنے کے لئے تیار ہو گئی۔ جن میں ابو ہریرہ زید بن ثابت کاتب رسول کریم ال اور حضرت امام حسن بھی تھے۔ ج تھے۔ جب حضرت عثمان کو اس بات کا علم ہوا۔ تو آ۔ ہوا۔ تو آپ نے ان کو قسم دے کر کہلا بھیجا کہ جانے دو اور ان لوگوں سے جنگ نہ کرو۔ چنانچہ بادل ناخواستہ یہ لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے اور حضرت علی حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے آپ کے گھر پر جاکر اس واقعہ کا بہت افسوس کیا۔ اس واقعہ کے بعد بھی حضرت عثمان " نماز پڑھاتے رہے لیکن محاصرہ کے تیسویں دن مفسدوں نے آپ کو نماز کے لئے نکلنے سے بھی روک دیا۔ اور اہل مدینہ کو بھی دق کرنا شروع کیا۔ اور جو شخص ان کی خواہشات کے پورا کرنے میں مانع ہوتا اسے قتل کر دیتے اور مدینہ کے لوگوں میں کوئی شخص بغیر تلوار لگائے کے باہر نہ نکل سکتا کہ کہیں اس کو یہ لوگ ایذاء نہ پہنچائیں۔ انہی دنوں میں کہ حضرت عثمان" خود نماز پڑھاتے تھے۔ آخری جمعہ میں آپ نماز پڑھانے لگے تو ایک خبیث نے آپ کو گالی دے کر کہا کہ اتر منبر سے اور آپ کے ہاتھ میں رسول کریم کا عصا تھا وہ چھین لیا اور اسے اپنے گھٹنے پر رکھ کر توڑ دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ سزا دی کہ اس کے گھٹنے میں کیڑے پڑ گئے۔ اس کے بعد حضرت عثمان صرف ایک یا دو وفعہ نکلے ۔ پھر نکلنے کی ان باغیوں نے اجازت نہ دی۔ ان محاصرہ کے دنوں میں حضرت عثمان نے ایک شخص کو بلوایا اور پوچھا کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔ اس نے کہا کہ دو باتوں میں سے ایک چاہتے ہیں یا تو یہ کہ آپ خلافت ترک کر دیں اور یا یہ کہ آپ پر جو الزام لگائے جاتے ہیں ان کے بدلہ میں آپ سے قصاص لیا جائے ۔ اگر ان دونوں باتوں میں سے آپ ایک بھی نہ مانیں گے تو یہ لوگ آپ کو قتل کر دیں گے۔ آپ نے پوچھا کہ کیا کوئی اور تجویز نہیں ہو سکتی۔ اس نے کہا نہیں۔ اور کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔ اس پر آپ نے فرمایا ۔ کہ خلافت تو میں چھوڑ