انوارالعلوم (جلد 3) — Page 177
انوار العلوم جلد ۳۰ ۱۷۷ انوار خلافت کو ایک خفیہ جماعت کی شکل میں بنانا شروع کیا اور آپس میں ایک انتظام قائم کیا۔ جب اس کی خبر والی کو ملی تو اس نے اس سے دریافت کیا کہ تو کون ہے تو اس نے کہلا بھیجا کہ میں ایک یہودی ہوں اسلام سے مجھے رغبت ہے اور تیری پناہ میں آکر رہا ہوں۔ چونکہ اس کی شرارتوں کا علم گورنر کور نر کو ہو چکا تھا انہوں نے اسے ملک بدر کر دیا۔ یہ پہلا واقعہ ہے جو تاریخ عبداللہ بن سبا کی سیاسی شرارتوں کے متعلق ہمیں بتاتی ہے اور اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حکیم بن جبلہ بھی سچے دل سے مسلمان نہ تھا اور اس کا ذمیوں پر حملہ کرنا اس لئے نہ تھا کہ غیر مسلموں سے اسے دشمنی تھی۔ بلکہ غیر معلموں کو اسلامی حکومت کے خلاف بھڑکانے کے لئے وہ ڈاکہ مارتا تھا جیسا کہ آج کل بنگالہ کے چند شریر ہندوستانی آبادی پر ڈاکہ مارتے ہیں۔ اور ان کی غرض صرف اس قدر ہوتی ہے کہ عام آبادی انگریزی حکومت کو ناقابل سمجھ کر اس سے بگڑ جائے۔ اور یہ نتیجہ اس بات سے نکلتا ہے کہ عبداللہ بن سبا ایک یہودی جو دل سے اسلام کا دشمن تھا اس کے پاس آکر ٹھرا ہے اگر حکیم سچا مسلمان ہوتا اور غیر مسلموں کا دشمن تو کبھی عبداللہ بن سبا جو دل سے اسلام کا دشمن تھا سب بصرہ میں سے اس کو نہ چلتا بلکہ اسے اپنا دشمن خیال کرتا۔ جب عبداللہ بن سبا بصرہ سے نکالا گیا تو کوفہ کو چلا گیا۔ اور وہاں ایک جماعت اپنے ہم خیالوں کی پیدا کر کے شام کو گیا لیکن وہاں اس کی بات کسی نے نہ سنی۔ اس لئے وہ وہاں سے مصر کو چلا گیا۔ مصری لوگ تازہ مسلمان تھے۔ ان میں ایمان اس قدر داخل نہ ہوا تھا۔ جیسا کہ دیگر بلاد کے باشندوں میں پھر مدینہ سے زیادہ دور تھے اور مرکز سے تعلق کم تھا اس لئے بہت کثرت سے اس کے فریب میں آگئے۔ اور عبد اللہ بن سبا نے دیکھ لیا کہ مصر ہی میرے قیام کے لئے مناسب ہو سکتا ہے چنانچہ اس نے مصر میں ہی رہائش اختیار کی اور لوگوں کو اکسانا شروع کیا۔ ادھر تو یہ فتنہ شروع تھا ادھر چند اور فتنے بھی پیدا ہو رہے تھے اور ان کے بانی بھی وہی لوگ تھے جو بعد میں مسلمان ہوئے تھے اور مدینہ سے ان کا تعلق بالکل نہ تھا اس لئے ان کی تربیت نہ ہو سکتی تھی۔ چنانچہ جس طرح بصرہ میں حکیم بن جبلہ عبداللہ بن سبا کے ساتھ مل کر یہ شرارتیں کر رہا تھا۔ کوفہ میں بھی ایک جماعت اسی کام میں لگی ہوئی تھی۔ سعید بن العاص گورنر کوفہ تھے اور ان کی صحبت اکثر ذی علم لوگوں کے ساتھ رہتی تھی۔ مگر کبھی کبھی تمام لوگوں کو وہ اپنے پاس آنے کی اجازت دیتے تھے تاکل حالات سے باخبر رہیں۔ ایک دن ایسا ہی موقعہ تھا باتیں ہو رہی تھیں۔ کسی نے کہا فلاں شخص بڑا سخی ہے سعید بن العاص نے کہا کہ