انوارالعلوم (جلد 3) — Page 155
انوار العلوم جلد ۳۰ بسم الله الرحمن الرحیم ۱۵۵ انوار خلافت محمده و فصلی علی رسوله الكريم تقریر حضرت فضل عمر خلیفة المسیح الثانی ( ۲۸ دسمبر ۱۹۱۵ د بر موقع جلسه سالانه ) اشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ، وَرَسُولُهُ امَّا بَعْدُ فَاعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحُ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا (سورة الصر) میں نے آ۔ آپ لوگوں کے سامنے جو یہاں تشریف لائے ہیں۔ بعض باتیں بیان کرنے ان کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ چنانچہ میں نے نوٹ کر لیا تھا کہ فلاں فلاں بات کہوں گا ۔ ا وں گا۔ اور میرا انشاء تھا کہ جس طرح پچھلے جلسہ پر یہ انتظام کیا گیا تھا کہ کچھ امور ایسے بیان کئے جائیں جو جماعت کی اصلاح کے متعلق ہوں اور کچھ ایسے جو روحانیت سے تعلق رکھتے ہوں۔ چنانچہ گزشتہ جلسہ پر میں نے بتایا تھا کہ انسان کی روحانی ترقی کے سات درجے ہیں اور یہ بھی بتایا تھا کہ ان کے حصول کے کیا ذرائع ہیں۔ اس دفعہ بھی میرا ارادہ تھا کہ ایک دن تو دوسری ضروری باتیں بیان کروں اور دوسرے دن ذکر الہی اور عبادت الہی پر کچھ کہوں۔ لیکن کہتے ہیں تدبیر کند بنده تقدیر زند خندہ۔ یہ کسی نے تو اپنے رنگ میں کہا ہو گا مگر میں جو کل اپنے ارادہ کو پورا نہیں کر سکا تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی خدا تعالیٰ کا منشاء ہوگا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے سلسلوں کے کام اس کی منشاء اور ارادہ کے ماتحت ہوتے ہیں۔ کل جو میں تقریر کرنے لگا تو گو بہت اختصار سے کام لیا اور بہت حصہ مضمون کا کاٹ کر بیان کیا۔ مگر مغرب تک پھر بھی نہ بیان کر سکا اور ایک حصہ رہ ہی گیا جو میرے خیال میں