انوارالعلوم (جلد 3) — Page 127
انوار العلوم جلد ۳۰ ۱۲۷ انوار خلافت سخت ہتک ہے جس کو ہم کسی مخالفت کی وجہ سے برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ تو مخالفت سے ڈراتے ہیں لیکن اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا تو جھوٹا ہے کذاب ہے آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔ کیونکہ آنحضرت ا کی شان ہی ایسی ہے کہ آپ کے ذریعہ سے نبوت حاصل ہو سکتی ہے۔ آپ نے رحمتہ للعالم للعالمین ہو کر رحمت کے دروازے کھول دیتے ہیں اس لئے اب ایک انسان ایسا نبی ہو سکتا ہے جو کئی پہلے انبیاء سے بھی بڑا ہو مگر اس صورت میں کہ آنحضرت اللہ کا غلام ہو۔ ہمارے لئے کتنی عزت کی بات ہے کہ قیامت کے دن تمام نبی اپنی اپنی امتوں کو لے کر کھڑے ہوں گے اور ہم کہیں گے کہ ہمارے نبی کی وہ شان ہے کہ آپ کا غلام ہی ہمارا نبی ہے۔ لیکن مسلمان کہتے ہیں کہ ہمارے لئے وہی مسیح آئے گا جو بنی اسرائیل کے لئے آیا تھا۔ اگر وہی آیا تو یہ قیامت کے دن کیا کہیں گے کہ ہمارے نبی آنحضرت ا کی وہ شان ہے کہ آپ کی امت کی اصلاح کے لئے بنی اسرائیل کا ہی ایک نبی آیا تھا۔ اس بات کو سوچو اور غور کرد که آنحضرت ا کی ہتک تم کر رہے ہو یا ہم ۔ آنحضرت ﷺ کی اس میں عزت ہے کہ آپ کی امت میں سے کسی کو نبی کا درجہ ملے نہ کہ بنی اسرائیل کا کوئی نبی آپ کی امت کی اصلاح کے لئے آئے۔ حضرت مسیح موعود نے اس لئے فرمایا کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد " ہے یعنی ابن مریم کا تم کیوں انتظار کر رہے ہو مجھے دیکھو کہ میں احمد کا غلام ہو کر اس سے بڑھ کر ہوں۔ کوئی کہے کہ اس شعر میں مرزا صاحب کہتے ہیں کہ میں غلام احمد ہوں اس لئے آپ کا یہی نام ہوا۔ میں کہتا ہوں کون مسلمان ہے جو اپنے آپ کو غلام احمد نہیں کہتا۔ ہر ایک سچا مسلمان اور مومن میں کہے گا کہ میں احمد " کا غلام ہوں۔ اسی طرح حضرت صاحب نے فرمایا ہے۔ چنانچہ آپ ایک اور جگہ فرماتے ہیں۔ کرامت گرچه بی نام و نشان است ز غلمان محمد بیا بنگر اب اس شعر سے کوئی احمق ہی یہ نتیجہ نکالے گا کہ جس شخص کا نام غلام محمد ہو وہ کرامت دکھا ہے۔ پس پہلے شعر میں صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ آنحضرت ا کا ایک غلام مسیح سے سکتا بہتر ہو سکتا ہے۔