انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 100

انوار العلوم جلد ۳۰ انوار خلافت بلکہ صفت آئی ہے لیکن کثرت سے احمد کر کے پکار نا صاف دلالت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں بھی آپ کا نام احمد تھا۔ ورنہ تعجب ہے کہ آنحضرت ﷺ کا نام احمد تھا۔ لیکن اللہ تعالٰی نے ایک دفعہ بھی ان کو اس نام سے یاد نہ کیا۔ اور حضرت مسیح موعود کا نام احمد نہ تھا بلکہ غلام احمد تھا لیکن احمد کے نام سے آپ کو بار بار پکارا گیا۔ اور شاذو نادر طور پر غلام احمد کے نام سے وہ بھی جہاں تک مجھے یاد ہے غلام احمد کہہ کر آپ کو الہام میں کبھی مخا مخاطب نہیں کیا گیا۔ ہاں اس قسم کے الہامات میں کہ غلام احمد کی ہے یاد کیا۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہو تاکہ اللہ تعالٰی ہمیشہ نعوذ باللہ اصل نام کو ترک کر دیتا ہے اور دوسرے نام سے یا اس نام سے جس کا پیشگوئی میں ذکر نہ ہو انسان کو پکارتا ہے۔ چاہئے تو یہ کہ اس نام سے پکارا جائے جس کا پیشگوئی میں خاص طور پر ذکر ہو تاکہ لوگوں کو اس طرف توجہ ہو۔ پھر آپ کا نام احمد ہونے پر حضرت خلیفہ اول کی بھی شہادت ہے آپ اپنے ساتواں ثبوت رسالہ مبادی الصرف و النحو میں لکھتے ہیں کہ "محمد ال خاص نام ہمارے سید و مولی خاتم النبین کا ہے۔ مکہ خاص شہر کا نام ہے جس میں ہمارے نبی کریم ﷺ کا تولد ہوا۔ احمد نام ہمارے اس امام کا ہے جو قادیان سے ظاہر ہوا اور حضرت خلیفہ اول تو وہ انسان تھے جن کی طہارت اور تقویٰ کے غیر مبالعین بھی قائل ہیں۔ پھر کیونکر ہو سکتا ہے کہ آپ نے نعوذ باللہ جھوٹ بولا ۔ یا یہ کہ حضرت خلیفہ اول کو حضرت صاحب کانا کو حضرت صاحب کا نام بھی معلوم نہ تھا۔ آٹھواں ثبوت خود غیر مبائعین بکہ ان کی متفقہ الجھن کا ہے۔ اور اس شہادت سے زیادہ غیر مبائعین کے لئے اور کونسی شہادت معتبر ہو سکتی ہے؟ جو ان کی صدر انجمن نے نے دی ہے که: وہ شہادت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود موعود نے الوصیت کے صفحہ ، پر لکھا ہے A اور چاہئے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں" (الوصیت من - روحانی خزائن جلد ۲ ص ۳۰۶ ) اس حکم کے ماتحت انجمن اشاعت اسلام لاہور کی طرف سے جو الفاظ بیعت شائع ہوئے ہیں ان کی عبارت یہ ہے : " آج میں محمد علی کے ہاتھ پر احمد کی بیعت میں داخل ہو کر اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا