انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xii of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page xii

انوار العلوم جلد ۳ ہم دلائل پیش کرتے ہیں آپ ان پر غور کریں۔ اور اگر حق نہ پائیں تو ان کو رد کر دیں لیکن سننا اور غور کرنا شرط ہے کیا ممکن نہیں کہ یہ سلسلہ سچا ہو پس اگر سچا ہے تو میں سب مذاہب کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ بتلاؤ کہ خدا تعالی کو کیا جواب دو گے تم لوگ جھوٹے اشتہاروں اور ڈنڈھوروں کی طرف تو متوجہ ہو جاتے ہو پھر کیا وجہ ہے کہ خدا تعالی کی طرف سے جو آواز آئی ہے۔ اس پر کان نہیں دھرتے"۔ تعارف کتب حضرت خلیفة المسیح الرابع ايده الله تعالیٰ بنصرہ العزیز سوانح فضل عمر جلد دوم صفحہ سے میں اس خطاب کے ضمن میں حضرت مصلح موعود کے فن خطابت کے متعلق ایک ت ایک جامع تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔ " آپ کے فن خطابت کا یہ کا یہ کمال تھا کہ بیک وقت مختلف طبقات اور علم کے مختلف درجے رکھنے والے سامعین کو ایسے رنگ میں مخاطب فرماتے تھے کہ ان میں سے ہر ایک بات کو خوب سمجھتا تھا خواہ وہ عارف ہو یا عالمی ۔ حتی کہ ایک ان پڑھ کے لئے بھی آپ کی بات کا سمجھنا آسان ہوتا تھا اور تقریر کے دوران خواہ کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو ایک ناخواندہ آدمی بھی کبھی یہ محسوس نہ کرتا تھا کہ یہ اس کے فہم و ادراک سے بالا ہے بلکہ مسلسل ہمہ تن گوش رہتا بایں ہمہ ایک عالم بھی ان سادہ اور آسان باتوں کو معمولی نہ جانتا بلکہ ہمیشہ یہ تاثر لے کر اٹھتا تھا کہ وہ ایک سمندر میں غوطہ زن ہو کر آیا ہے جو علم و عرفان کے جواہر سے پر ہے علاوہ ازیں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک ہی وقت میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو احمدیت کی طرف بلایا جاتا تھا اور تمام عرصہ ہر فرقے اور ہر مذہب کے پیرو مسلسل تقریر کا اپنے ہی آپ کو مخاطب سمجھتے تھے اور ۔ اور کبھی یہ احساس پیدا نہ ہوتا تھا کہ یہ باتیں دوسروں کے لئے ہیں"۔ (۴) فاروق کے فرائض یہ وہ زریں نصائح ہیں جو حضرت مصلح موعود نے حضرت میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر XXXXXXXXXXX