انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 89

لانوار العلوم جلد ۳۰ ۸۹ انوار خلافت احمد کا نام ہی موجود نہیں۔ پس جب کہ اِسْمةَ احْمَدُ والی آیت کو اگر مطابق مضمون اس آیت کے بجائے رسول کریم کے چسپاں کرنے کے آپ کے کسی خادم پر چسپاں کیا جائے تو قرآن کریم کی کسی اور آیت کی تکذیب نہیں ہوتی اور آنحضرت ا پھر بھی حضرت مسیح کے موعود رہتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اس آیت کے مضمون کو توڑ مروڑ کر آپ پر صرف اس لئے چسپاں کیا جائے تا یہ ثابت ہو کہ آپ کے بعد کوئی اور رسول نہیں آسکتا۔ کیا خدا تعالیٰ کا خوف دلوں سے اٹھ گیا ہے کہ اس طرح اس کے کلام میں تحریف کی جاتی ہے اور صریح طور پر اس کے غلط معنی کر کے اس کے مفہوم کو بگاڑا جاتا ہے۔ جب تک حق نہ آیا تھا اس وقت تک کے لوگ مجبور تھے لیکن اب جبکہ واقعات سے ثابت ہو گیا ہے کہ احمد سے مراد آنحضرت ا کا ایک خادم ہے تو پھر بھی ہٹ دھرمی سے کام لینا شیوہ مؤمنانہ نہیں۔ پھر ایک عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو یہ زور دیا انجیل میں آپ کا نام محمد آیا ہے جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کا نام احمد تھا اور دوسری طرف یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ انجیل میں آنحضرت اللہ کا نام محمد " آیا ہے۔ جبکہ انجیل میں آپ کا نام محمد آیا ہے تو پھر اِسعَةَ أَحْمَدُ والی پیشگوئی آپ پر چسپاں کرنا گویا آپ کی تکذیب کرنا ہے کیونکہ انجیل تو صریح محمد " نام سے آپ کی خبر دیتی ہے اور اس پیشگوئی میں کسی احمد نام رسول کی خبر دی گئی ہے تو کیا صاف ثابت نہیں ہوتا کہ وہ پیشگوئی اور ہے اور یہ اور ۔ اور کیا اس پیشگوئی کو آپ پر چسپاں کرنے والا قرآن کریم پر غلط بیانی کا الزام نہیں لگا تا کہ انجیل میں تو محمد نام لکھا تھا لیکن قرآن کریم احمد نام بتاتا ہے۔ ایسا شخص ذرا غور تو کرے کہ اس کی یہ حرکت اسے کس خطرناک مقام پر کھڑا کر دیتی ہے اور وہ اپنا شوق پورا کرنے کے لئے قرآن کریم اور رسول کریم کی بھی تکذیب کر دیتا ہے۔ جس انجیل میں آنحضرت ا کو محمد کے نام سے یاد کیا گیا ہے وہ برنباس کی انجیل ہے اور نواب صدیق حسن خاں مرحوم بھوپالوی اپنی تفسیر فتح البیان کی جلد 9 صفحہ ۳۳۵ میں اِسْمَةَ أَحْمَدُ والی پیشگوئی کے نیچے لکھتے ہیں کہ برنباس کی انجیل میں جو خبر دی گئی ہے اس کا ایک فقرہ یہ ہے لكِنَّ هَذِهِ الْإِمَانَةَ وَالْإِسْتِهْزَاءَ تَبْقِيَانِ إِلَى أنْ يَجِدُيَّ مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله یعنی حضرت مسیح نے فرمایا کہ میری یہ اہانت اور استہزاء باقی رہیں گے یہاں تک کہ محمد رسول اللہ تشریف لائیں۔ یہ حوالہ ہمارے موجودہ اختلافات سے پہلے کا ہے اور نواب صدیق حسن خان صاحب کی قلم سے نکلا ہے۔ پس یہ حوالہ نہایت معتبر ہے