انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 87

انوار العلوم جلد ۳۰ ذریعہ سے یہ یہ ۸۷ انوار خلافت نام بتایا گیا ہو تا تو قرآن کریم میں جو وحی الہی ہے اول تو احمد نام ہی آتا اور اگر محمد بھی آتا تو احمد بعض مقامات پر ضرور آتا۔ وہ عجیب الهامی نام تھا کہ قرآن کریم اس نام سے ایک دفعہ بھی آنحضرت ا کو نہیں پکارتا۔ دوسری دلیل آپ کا نام احمد نہ ہونے کی یہ ہے کہ کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ آپ کا نام احمد تھا۔ کلمہ شہادت جس پر اسلام کا دارو مدار ہے اس میں بھی محمد رسول اللہ کہا جاتا ہے کبھی احمد رسول اللہ نہیں کہا جاتا حالانکہ اگر آپ کا نام احمد ہو تا تو کلمہ شہادت کی کوئی روایت تو یہ بھی ہوتی کہ أَشْهَدُ أَنَّ أَحْمَدَ رَسُولُ اللَّهِ پنجوقتہ اذان میں بھی یہ بانگ بلند مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ کہہ کر آپ کی رسالت کا اعلان کیا جاتا ہے۔ کبھی احمد رسول اللہ نہیں کہا جاتا۔ تکبیر میں بھی محمد ہی آنحضرت کا نام آتا ہے اور درود میں بھی آنحضور کو محمد نام لے کر ہی یاد کیا جاتا ہے اور اسی نام کے رسول پر خدا تعالیٰ کی رحمتیں بھیجی جاتی ہیں۔ رسول کریم لا کے خطوط کی نقلیں موجود ہیں ان سب میں آپ نے اپنے دستخط کی جگہ محمد " نام کی ہی مہر نام کی ہی مہر لگائی ہے۔ ایک خط میں بھی احمد اپنا نام تحریر نہیں فرمایا۔ پھر صحابہ کرام کی گفتگو احادیث میں مذکور ہیں لیکن ایک دفعہ بھی ثابت نہیں ہو تاکہ کسی صحابی نے انحضرت ا کو احمد کہہ کر پکارا ہو اور نہ ان کی آپس کی گفتگو میں ہی یہ نام آتا ہے نہ تاریخ سے ثابت ہے کہ آپ کا نام احمد رکھا گیا تھا۔ بلکہ تاریخ سے بھی یہی ثابت ہے کہ آپ کا نام محمد رکھا گیا تھا۔ آپ کے مخالف جس قدر تھے جن میں خود آپ کے رشتہ دار اور چا بھی شامل تھے سب آپ کو محمد اس نام سے پکارتے تھے یا شرارت سے مذتم کہہ کر پکارتے تھے کہ وہ بھی محمد کے وزن پر ہے۔ غرض جس قدر بھی غور کریں اور فکر کریں آپ کا نام قرآن کریم سے احادیث سے کلر سے اذان سے ، تکبیر سے درود سے درود سے آپ کے خطوط سے معاہدات سے تاریخ سے صحابہ کے اقوال سے محمد" محمد ہی معلوم ہوتا ہے نہ کہ احمد ۔ پھر اس قدر دلائل کے ہوتے ہوئے کیو کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا نام احمد تھا۔ اگر احمد بھی آپ کا نام ہو تا تو مذکورہ بالا مقامات میں محمد محمد نام کے ساتھ آپ کا نام احمد ؟ آپ کا نام احمد بھی آتا اور کچھ نہیں تو ایک ہی جگہ احمد نام سے آپ کو پکارا جاتا یا کلمہ شہادت میں بجائے اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ کے احمد رسول الله بھی پڑھنا جائز ہوتا مگر ایسا نہیں ہے نہ یہ بات رسول کریم سے کریم سے ثابت ہے اور نہ صحابہ ہے۔ اب ان واقعات کے ہوتے ہوئے ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ آپ کا نام احمد نہ تھا۔ پس اس آیت میں جس رسول احمد نام والے کی خبر دی گئی ہے وہ آنحضرت ا نہیں ت ۔