انوارالعلوم (جلد 2) — Page 76
انوار العلوم جلد ۲ ८५ شکریہ اور اعلان ضروری جائے گا۔ اور خدا تعالی کے سامنے تو نیک اعمال ہی جائیں گے پس دین اسلام کے لئے اپنے اموال کی کچھ پرواہ نہ کرو ۔ کیا آج تک اللہ تعالیٰ نے آپ سے بخل کیا ہے کہ آئندہ کرے گا۔ نہ تمام جماعتوں کے سکرٹریوں کو اور ان لوگوں کو جن کو خدا تعالیٰ اس کام کے لئے ہمت دے چاہئے کہ فورا اس اعلان کے پہنچتے ہی دوستوں کو سنائیں اور خاص طور پر تحریک کر کے چندہ بھجوائیں تاکہ فورا کام شروع کر دیا جائے ۔ روپیہ براہ راست میرے نام بھیجیں۔ کیونکہ اس سے دعا کی تحریک ہوتی ہے ہاں رسید اس انجمن کے سیکرٹری مولوی شیر علی صاحب بی اے کے دستخط سے روانہ ہوگی۔ کیونکہ حساب و کتاب انہیں کے زیر نگرانی ہو گا۔ جماعت کے مخلصین کے لئے یہ ایک امتحان کا موقعہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ غیر معمولی اخلاص کا نمونہ دکھا ئیں گے ۔ ہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ انجمن کے ماہوار چندوں پر اس چندہ کا کوئی اثر نہ پڑے۔ اور جو شخص ان چندوں میں کمی کر کے اس طرف چندہ دے گا وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ازیر زیره مؤاخذہ ہو گا کیونکہ وہ وعدہ خلافی کرے گا اور یہ دانائی سے بعید ہے۔ کہ ایک بچہ کو بچانے کے لئے دوسرے بچہ کو قتل کیا جائے۔ پس جو کچھ دو ماہوار چندوں سے زائد دو اور اس بات کو مد نظر رکھو کہ خدا تعالیٰ کبھی اس ایثار کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ آپ دیکھیں گے کہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ آپ کے اندر کام کرتا ہو گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ انصار اللہ کہلاتا کچھ چھوٹا سا انعام نہیں پس آؤ تم سب انصار اللہ بن جاؤ اور اپنے اموال اور اپنی جانوں ۔ ان سے اشاعت اسلام اسلام میں لگ جاؤ ۔ خدا تعالیٰ آپ ۔ ساتھ ہو۔ کے نوٹ:۔ جس قدر تجاویز ۱۲ اپریل کے جلسہ میں ہوئی تھیں ان سب کا انتظام میں اس انجمن کے سپرد کرتا ہوں جس کے ممبر تا اطلاع ثانی یہ اصحاب ہوں گے ۔ حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب نواب محمد علی خان صاحب- سید حامد شاہ صاحب- مولوی شیر علی صاحب بی اے۔ مرزا بشیر احمد صاحب - ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب اسٹنٹ سرجن ۔ ڈاکٹر رشید الدین صاحب اسٹنٹ سرجن پیشنر - سیٹھ عبدالرحمن صاحب - حاجی اللہ رکھا مدراس اور اسی وقت تک اس انجمن کی علیحدہ ضرورت ہوگی جب تک کہ مجلس معتمدین کا انتظام با قاعده نه ہو ۔ جب انشاء اللہ مجلس معتمدین کی مناسب اصلاح ہو جائے گی تو پھر اس انجمن کی علیحدہ ضرورت نہ ہو گی بلکہ یہ کام بھی اس کے سپرد کر دیا جائے گا۔ آخر میں میں سب مبالغین کو پھر ہدایت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کر کے اس