انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page ix of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page ix

انوار العلوم جلد ۲ १९ دیا اور اب جو شخص اس کی مخالفت کرتا ہے۔ وہ خدا کی مخالفت کرتا ہے " تعارف کتب آپ نے آیات قرآنیہ اور حضرت مسیح موعود کے اقوال سے اس بات کو ثابت کیا کہ حضرت مسیح موعود کے بعد بھی خلافت کا قیام ضروری تھا۔ اور حضرت خلیفہ المسیح الاول کا دور خلافت اس پر شاہد ہے۔ اور اب خدا تعالیٰ نے یہ منصب آپ کو عطا کیا ہے۔ فرمایا: اب کون ہے جو مجھے خلافت سے معزول کر سکے۔ خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے۔ اور خدا تعالیٰ اپنے انتخاب میں غلطی نہیں کرتا۔ اگر سب دنیا مجھے مان لے تو میری خلافت بڑی نہیں ہو سکتی اور اگر سب کے سب خدانخواستہ مجھے ترک کر دیں تو بھی خلافت میں فرق نہیں آسکتا"۔ اسی ٹریکٹ میں آپ نے اس سلسلہ میں ہونے والے بعض اعتراضات کا رد کیا اور حضرت مسیح موعود کی پیش گوئیوں سے ثابت کیا کہ آپ ہی موعود خلیفہ ہیں آپ نے فرمایا : کیا تمہیں مسیح موعود کی پیش گوئیوں پر اعتبار نہیں۔ اگر نہیں تو تم احمدی کس بات کے ہو۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعود نے سبز اشتہار میں ایک بیٹے کی پیش گوئی کی تھی کہ اس کا ایک نام محمود ہوگا۔ دوسرا نام فضل عمر " ہو گا اور تریاق القلوب میں آپ نے اس پیش گوئی کو مجھ پر چسپاں بھی کیا ہے۔ پس مجھے بتاؤ کہ عمرکون تھا۔ اگر تمہیں علم نہیں تو سنو کہ وہ دو سرا خلیفہ تھا۔ آخریر آپ نے جماعت کو چند نصائح کیں اور دعا کی تحریک کی کہ اللہ تعالی اس فتنہ کی آگ کو فرو کردے۔ (۳) منصب خلافت ۱۲۔ اپریل ۱۹۱۴ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے ارشاد پر تبلیغ و اشاعت اسلام کے معاملہ پر غور کرنے کے لئے مسجد مبارک میں ملک بھر کے احمدی نمائندوں کی عہد : انمائندوں کی (عہد خلافت ثانیہ کی) پہلی مجلس شوری منعقد ہوئی۔