انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 63

انوار العلوم جلد ۲ ۶۳ منصب خلافت ہی نہ لے تو نتیجہ یہ نکلے کہ قوم میں کوئی دانا انسان ہی نہ رہے اور دوسرا خلیفہ احمق ہی ہو کیونکہ اسے کبھی کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ہماری پچھلی حکومتوں میں یہی نقص تھا۔ شاہی خاندان کے لوگوں کو مشورہ میں شامل نہ کیا جاتا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ان کے دماغ مشکلات حل کرنے کے عادی نہ ہوتے تھے اور حکومت رفتہ رفتہ تباہ ہو جاتی تھی پس مشورہ لینے سے یہ بھی غرض ہے کہ قابل دماغوں کی رفتہ رفتہ تربیت ہو سکے تاکہ ایک وقت وہ کام سنبھال سکیں جب لوگوں سے مشورہ لیا جاتا ہے تو لوگوں کو سوچنے کا موقع ملتا ہے اور اس سے ان کی استعدادوں میں ترقی ہوتی ہے۔ ایسے مشورہ میں یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ ہر شخص کو اپنی رائے کے چھوڑنے میں آسانی ہوتی ہے اور طبیعتوں میں ضد اور ہٹ نہیں پیدا ہوتی ۔ اس وقت جو دقتیں ہیں وہ اس قسم کی ہیں کہ باہر سے خطوط آتے ہیں کہ واعظ بھیج دو۔ اب جو انجمن کے ملازم ہیں انہیں کون بھیجے؟ انجمن تو خلیفہ کے ماتحت ہے نہیں ۔ حضرت خلیفہ اول ملازمین کو بھیج دیتے اور وہ آن ڈیوٹی سمجھے جاتے تھے ہمارے ہاں کام کرنے والے آدمی تھوڑے ہیں اس لئے پیر د کے یہ دھنیں پیش آتی ہیں ۔ یا ایک شخص آتا ہے کہ مجھے فلاں ضرورت ہے مجھے کچھ دو۔ پچھلے دنوں مونگھیر والوں نے لکھا کہ یہاں مسجد کا جھگڑا ہے اور جماعت کمزور ہے مدد کرو۔ حضرت صاحب کو میں نے دیکھا ہے کہ مسجدوں کے معاملات میں بڑی احتیاط کرتے ۔ حضرت خلیفہ المسیح بھی بڑی کوشش کرتے ۔ کپور تھلہ کی مسجد کا مقدمہ تھا حضرت صاحب نے فرمایا کہ اگر میں سچا ہوں تو یہ مسجد ضرور ملے گی۔ غرض مسجد کے معاملہ میں بڑی احتیاط فرماتے اب ایسے موقع پر میں تو پسند نہیں کر سکتا تھا کہ ان کی مدد نہ کی جائے اس لئے مجھے روپیہ بھیجنا ہی پڑا۔ یا مثلاً کوئی اور فتنہ ہو اور کوئی ماننے والا نہ ہو تو کیا ہو ۔ اس قسم کی دقتیں اس اختلاف کی وجہ سے پیش آ رہی ہیں اور پیش آئیں گی ۔ اللہ تعالیٰ پر میری امیدیں بہت بڑی ہیں میں یقین رکھتا ہوں کہ معجزانہ طور پر کوئی طاقت دکھائے گا لیکن یہ عالم اسباب ہے اس لئے مجھ کو اسباب سے کام لینا چاہئے ۔ میں جو کچھ کروں گا خدا تعالیٰ کے خوف سے کروں گا۔ اس بات کی مجھے پرواہ نہ ہو گی کہ زید یا بکر اس کی بابت کیا کہتا ہے پس میں پھر کہتا ہوں کہ اگر میں خدا سے ڈر کر کرتا ہوں ، اگر میرے دل میں ایمان ہے کہ خدا ہے تو پھر میں نیک نیتی سے کر رہا ہوں جو کچھ کرتا ہوں اور کروں گا اور اگر میں نَعُوذُ باللہ خدا سے نہیں ڈرتا تو پھر تم کون ہو کہ تم سے ڈروں پس میں تم سے مشورہ پوچھتا کہ تم سے ہوں کہ کیا تجویز ہو سکتی ہے کہ ان دقتوں کو رفع کیا جائے؟