انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 60

انوار العلوم جلد ۲ منصب خلافت صلى صلى الله من شَاوِرُهُمْ فِي الأمْرِ تو آنحضرت ﷺ کو حکم ہے خلافت کہاں سے نکل آئی لیکن یہ لوگ یاد رکھیں کہ حضرت ابو بکر پر جب زکوۃ کے متعلق اعتراض ہوا تو وہ بھی اسی رنگ کا تھا کہ خُذْ مِن أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تو نبی کریم ﷺ کو حکم ہے اب وہ رہے نہیں اور کسی کام اور کسی کا حق نہیں کہ وہ زکوۃ وصول کرے جسے لینے کا حکم تھا وہ فوت ہو گیا ہے ۔ حضرت ابوبکر نے یہی جواب دیا کہ اب میں مخاطب ہوں اسی کا ہم آہنگ ہو کر اپنے معترض کو کہتا ہوں کہ اب میں مخاطب ہوں ۔ اگر اُس وقت یہ جواب سچا تھا اور ضرور سچا تھا تو یہ بھی درست ہے جو میں کہتا ہوں ۔ اگر تمہارا اعتراض ن مجید سے بہت سے احکام تم کو نکال دینے پڑیں گے اور یہ کھلی کھلی ہو تو اس پر قرآن مجید درست ہو ضلالت ہے۔ میں تمہیں ایک اور عجیب بات سناتا ہوں جس سے تمہیں معلوم ہو جائے ایک عجیب بات گا کہ خدا تعالی کے کاموں میں تفاوت نہیں ہوتا۔ اشتہار سبز میں میرے متعلق خدا کے حکم سے حضرت مسیح موعود نے بشارت دی خدا کی وحی سے میرا نام اولو العزم رکھا اور اس آیت میں فرمایا فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللہِ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجھے اس آیت پر عمل کرنا پڑے گا پھر میں اس کو کیسے رو کر سکتا ہوں۔ کیا خدمت کی ہے؟ پھر ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ اس نے کیا خدمت کی ہے؟ اس خدمات کسی قدر تھیں کہ وہ بڑے بڑے صحابہ پر افسر مقرر کر دیا گیا ۔ خلافت تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ملتی ہے وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے ہاں اس کا یہ فعل نَعُوذُ بِاللهِ لغو نہیں ہوتا ۔ پھر خالد بن ولید، ابو عبیدہ ، عمرو بن العاص ، سعد بن الوقاص انہوں نے جو خدمات کیں ان کے مقابلہ میں حضرت عمر " کیا خدمار خدمات پیش کر سکتے ہیں مگر خلیفہ تو حضرت عمرؓ ہوئے وہ نہ ہوئے خدا تعالی سے بہتر اندازہ کون لگا سکتا ہے۔ آیت استخلاف میں نے آیت استخلاف پر غور کیا ہے اور مجھے بہت ہی لطیف معنی آیت استخلاف کے سمجھائے گئے ہیں جن پر غور کرنے سے بڑا مزا آیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمُ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمُ وَلَيُبَدِّ لَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمُ أَمَنًا يَعْبُدُو نَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ له (التوبة: ١٠٣) XXXXXXXXX