انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 54

انوار العلوم جلد ۲ ۵۴ منصب خلافت ہوئی برکت نہ ہوئی ۔ پھر انبیاء علیہم السلام اولاد کی خواہش یو نہی کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کی اولاد کی پیشگوئی نَعُوذُ بِاللهِ لغو کی اور خدا تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام سے جو وعدے کئے وہ برکت کے دعوے نہ تھے ۔ ( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ ) اور اگر یہ پیر پرستی ہے کہ کوئی بیٹا وارث ہو تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ پیر کی اولاد کو ذلیل کیا جائے تا کہ پیر پرستی کا الزام نہ آئے پھر احترام اور عزت و تکریم کے دعاوی کسی حد تک درست سمجھے جائیں۔ یہ شرم کرنے کا مقام ہے سو چو اور غور کرو۔ میں تمہیں کھول کر کہتا ہوں کہ میرے دل میں یہ خواہش نہ تھی اور کبھی نہ تھی ۔ پھر اگر تم نے مجھے گندہ سمجھ کر میری بیعت کی ہے تو یا درکھو کہ تم ضرور پیر پرست ہو لیکن اگر خدا تعالیٰ نے تمہیں پکڑ کر جھکا دیا ہے تو پھر کسی کو کیا ؟ یہ کہنا کہ میں نے انجمن کا حق غصب کر لیا ہے بہت بڑا بول ہے کیا تم کو معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میں تیری ساری خواہشوں کو پورا کروں گا ۔ اب ان لوگوں کے خیال کے موافق تو حضرت صاحب کا منشاء اور خواہش تو یہ تھی کہ انجمن ہی وارث ہے اور خلیفہ ان کے خیال میں بھی نہ تھا تو اب بتاؤ کہ کیا اس بات کے کہنے سے تم اپنے قول سے یہ ثابت نہیں کر رہے کہ نَعُوذُ بِاللہ خدا نے ان کے منشاء کو پورا نہ ہونے دیا۔ سوچ کر بتاؤ کہ شیعہ کون ہوئے ؟ شیعہ بھی تو یہی کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاء تھا کہ حضرت علی خلیفہ ہوں آپ کے خیال وو ہم میں بھی نہ تھا کہ ابو بکر، عمر، عثمان خلیفہ ہوں ۔ تو جیسے ان کے اعتقاد کے موافق مسئلہ خلافت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منشاء کو لوگوں نے بدل دیا اسی طرح یہاں بھی ہوا ۔ افسوس ۔ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی عزت اور عظمت تمہارے دلوں میں ہے کہ تم قرار دیتے ہو کہ وہ اپنے منشاء میں نَعُوذُ بِاللهِ ناکام رہے۔ خدا سے ڈرو اور توبہ کرو۔ پھر ایک تحریر لئے پھرتے ہیں اور اس کے فوٹو چھپوا کر شائع کئے جاتے ہیں یہ بھی وہی شیعہ والے قرطاس کے اعتراض کا نمونہ ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے قرطاس نہ لانے دیا۔ اگر قرطاس آ جاتا تو ضرور حضرت علیؓ کی خلافت کا فیصلہ کر جاتے یہ لوگ کہتے ہیں کہ افسوس قرطاس لکھ کر بھی دے گئے پھر بھی کوئی نہیں مانتا بتاؤ شیعہ کون ہوا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر وہ قرطاس ہوتا تو کیا بنتا ۔ وہی کچھ ہونا تھا جو ہو گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا اور شیعہ کو خلیفہ ثانی پر اعتراض کا موقع ملا۔ یہاں مسیح موعود علیہ السلام نے لکھ کر دیا اور اب اس کے ذریعہ اس کے