انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 48

انوار العلوم جلد ۲ ۴۸ منصب خلافت انہیں ربانی تحریک سمجھ کر اور اپنی دعا کا نتیجہ یقین کر کے بولنے پر مجبور ہوں غرض تعلیم العقائد کیلئے ایک ایسے رسالہ یا ٹریکٹ کی ضرورت ہے۔ اس کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ وقت آ رہی ہے کہ کسی نے صرف تریاق القلوب کو پڑھا اور اس سے ایک نتیجہ نکال کر اس پر قائم ہو گیا حقیقۃ الوحی کو نہ دیکھا اب دوسرا آیا اس نے حقیقۃ الوحی کو پڑھا اور سمجھا ہے وہ اس کی بناء پر اس سے بحث کرتا ہے اور تیسرا آتا ہے اس نے حضرت صاحب کے تمام اشتہارات کو بھی جن کی تعداد ۱۸۰ سے زیادہ ہے پڑھا ہے وہ اپنے علم کے موافق کلام کرتا ہے ۔ مثلا مجھے اب تک معلوم نہ تھا کہ اشتہارات کی اس قدر تعداد ہے آج ہی معلوم ہوا ہے اور اب اِنْشَاءَ اللہ میں خود بھی ان تمام اشتہارات کو پڑھوں گا۔ پس ضرورت ہے کہ علماء کی ایک جماعت ہو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھ کر عقائد کے متعلق ایک نتیجہ نکال کر ایک رسالہ میں انہیں جمع کریں ۔ وہ تمام عقائد جماعت کو دیئے جاویں اور سب انہیں پڑھیں اور یا درکھیں ۔ یہ اختلاف جو عقائد کے متعلق پیدا ہوتا ہے إِنْشَاءَ اللهُ بالکل مٹ جاوے گا سب کا ایک ہی عقیدہ ہوگا اور اگر پھر اختلاف ہوگا بھی تو نہایت ہی خفیف ہوگا۔ تفرقہ نہ ہوگا جیسے اب ہوا۔ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اس وقت بھی جو اختلاف ہوا وہ عقائد کی سے نہیں ۔ کفر و اسلام کا بہانہ ہے ۔ احمدی اور غیر احمدی کے سوال کو خلافت سے کیا تعلق ؟ اگر یہ سوال حل ہو جائے تو کیا یہ معترض خلافت کو مانیں گے کبھی نہیں یہ تو غیر احمدیوں کی ہمدردی کو حاصل کرنے اور بعض احمد یوں کو بھڑکانے کیلئے ہے بھلا خیال تو کرو کہ دو میاں بیوی یا بھائی بھائی بھاؤ اگر آپس میں لڑ کر ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں کہ ہمارے ہمسایہ کا کیا مذہب ہے تو یہ عقلمندی ہوگی ۔ نہیں یہ مسئلہ صرف ایک آڑ ہے۔ وجہ سے کی خواہش میرا دل چاہتا ہے کہ ان خواہشوں کی تعیل میرے وقت میں ہو جاوے میری خوا دل ہے کی وقت ہو یہ ی اتحاد کیلئے بڑی ضروری ہیں اگر خدا تعالیٰ نے چاہا جیسا کہ میں اپنے خدا پر بڑی بڑی امیدیں رکھتا ہوں تو سب کچھ ہو جائے گا ۔ تعلیم شرائع کا انتظام بھی ہو جاوے گا اور حکمت بھی سکھائیں گے اور یہ ساری باتیں قرآن شریف سے ہی إِنْشَاءَ الله بتادیں گے۔ ان امور کے بعد اب تزکیہ نفس ہے میں نے کہا ہے کہ قرآن مجید سے اور سورۃ بقرہ کی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ تزکیہ نفوس کیلئے سب سے بڑا ہتھیار سب نا قابل خطا ہتھیار دعا ہے ۔ نماز بھی دعا ہی ہے ۔ سورۃ بقرہ جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا