انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 46

انوار العلوم جلد ۲ منصب خلافت تھا۔ مگر نہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سکھانا مقصود تھا ۔ وہ جنگ کیلئے جا رہے تھے اس لئے یہ امتحان کا حکم دے دیا اگر وہ اس چھوٹے سے حکم کی اطاعت کرنے کے بھی قابل نہ ہوں گے تو پھر میدانِ جنگ میں کہاں مانیں گے؟ بہر حال اللہ تعالیٰ کے تمام احکام میں حکمتیں ہیں اور اگر انسان ان پر عمل کرتا رہے تو پھر اللہ تعالیٰ ایمان نصیب کر دیتا ہے اور اپنے فضل کے دروازے کھول دیتا ہے (چونکہ وقت زیادہ ہو گیا تھا آپ نے فرمایا کہ گھبرانا نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بعض وقت لمبی تقریر کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے آپ لوگوں کو جس غرض کیلئے جمع کیا گیا ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ پورے طور پر اس سے واقف ہو جاویں۔ ) غرض شرائع میں حکمتیں ہیں اگر ان کی حقیقت معلوم نہ ہو تو بعض وقت اصل احکام بھی جاتے رہتے ہیں اور پھر غفلت اور سستی پیدا ہو کر مٹ جاتے ہیں۔ کسی جنٹلمین نے لکھ دیا کہ نماز کسی پینچ یا کرسی پر بیٹھ کر ہونی چاہئے کیونکہ پتلون خراب ہو جاتی ہے دوسرے نے کہہ دیا کہ وضوء کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ اس سے کھیں وغیرہ خراب ہو جاتی ہیں ۔ جب یہاں تک نوبت پہنچی تو رکوع اور سجدہ بھی ساتھ ہی گیا ۔ اگر کوئی شخص ان کو حکمت سکھانے والا ہوتا اور انہیں بتاتا کہ نماز کی حقیقت یہ ہے ، وضوء کے یہ فوائد ہیں اور رکوع اور سجود میں یہ حکمتیں ہیں تو یہ مصیبت کیوں آتی اور اس طرح وہ دین کو کیوں خیر باد کہتے ۔ مسلمانوں نے شرائع کی حکمتوں کے سیکھنے کی کوشش نہیں کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت لوگ مرتد ہو رہے ہیں اگر کوئی عالم ان کو حکمتوں سے واقف کرتا تو کبھی دہریت اور ارتداد نہ پھیلتا۔ یہاں اسی مسجد والے مکان کے مالک ( یہ مسجد والا مکان مرزا امام الدین وغیرہ سے خریدا تھا۔ مؤلف ) حضرت صاحب کے چا کا بیٹا مرزا امام الدین دہر یہ تھا ۔ حضرت خلیفہ اسیح نے ایک مرتبہ ان سے پوچھا کہ مرزا صاحب! کبھی یہ خیال بھی آیا ہے کہ اسلام کی طرف توجہ کرنی چاہئے؟ کہنے لگا کہ میری فطرت بچپن سے ہی سلیم تھی لوگ جب نماز پڑھتے اور رکوع سجود کرتے تو مجھے ہنسی آتی تھی کہ یہ کیا کرتے ہیں ۔ یہ کیوں ہوا؟ اس لئے کہ انہیں کسی نے حکمت نہ سکھائی۔ ا شرائع اسلام کی حقیقت سے واقف نہ کیا نتیجہ یہ ہوا کہ دہر یہ ہو گیا سو یہ کام خلیفہ کا ہے کہ حکمت سکھائے اور چونکہ وہ ہر جگہ تو جا نہیں سکتا اس لئے ایک جماعت ہو جو اس کے پاس رہ کر ان حکمتوں اور شرائع کے حدود کو سیکھے پھر وہ اس کے ماتحت لوگوں کو سکھائے تا کہ لوگ گمراہ نہ ہوں ۔ اس زمانہ میں اس کی خصوصیت سے ضرورت ہے کہ لوگ جدید علوم پڑھ کر ہوشیار ہو رہے ہیں