انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 612 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 612

انوار العلوم جلد ۲ حقيقة النبوة (حصہ اول ) حدیث نہائت ہی مجروح ہے لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود نے اس سے استدلال فرمایا ہے اس لئے ہم اسے درست ہی سمجھتے ہیں مگر اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انبیاء سے کس بات میں مشابہ ہیں اس لئے حضرت مسیح موعود کی مسیح سے مشابہت میں اور اس میں فرق ہے مشابہت کبھی صرف کسی خاص بات میں ہوتی ہے اور اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل میں انبیاء حفاظت دین کے لئے آتے رہے میری امت میں اللہ تعالیٰ ایسے علماء پیدا کرتا رہے گا جو اس کام کو کرتے رہیں گے لیکن ان کو پہلے انبیاء سے کامل مشابہت نہیں فرمائی اور نہ یہ فرمایا کہ وہ رسالت میں مشابہ ہوں گے جیسے فرمایا کہ کما أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولا اور اس سے پہلے أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً فرما کر بتا دیا کہ مشابہت رسالت میں ہے پس نہ تو اس حدیث میں کامل مشابہت قرار دی ہے اور نہ بتایا کہ نبوت میں مشابہت ہے لیکن مسیح موعود کو مشابہ نہیں کہا اور کاف حرف تشبیہ کا نہیں لگایا بلکہ عیسیٰ ابن مریم اور نہی کے لفظ سے یاد فرما کر کامل مشابہت ظاہر فرمائی جس کے لئے نہی ہونا ضروری ہے۔ مرزا محمود احمد اللہ مستقل نبوت کے معنے خود حضرت مسیح موعود نے کر دیئے ہیں کہ وہ نبوت براہ راست ملے پس اس کے معنے صرف یہ ہیں کہ انحضرت کے بعد کوئی ایسانی نہیں آسکتا جس کو براہ راست نبوت ملے۔ ا اس سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں نبی کا ہونا آپ کے کمالات کو ثابت کرتا ہے نہ کہ باطل۔ مرزا محمود احمد لا يُظهر علی غیبہ والی آیت کے ماتحت اپنی نبوت کا اقرار کرتے ہیں۔ مرزا محمود احمد لاي ۵۴ یاد رہے کہ ممکن ہے بعض لوگ شاید دھوکا دینے کیلئے لغت کی چھوٹی چھوٹی کتاب نکال کر دکھا دیں جن میں نہایت اختصار سے معنی دیئے جاتے ہیں اور لفظ کے معنے پورے نہیں بیان کئے جاتے اور نہ کل خصوصیات بیان کی جاتی ہیں پس ان لغات کا اس معاملہ میں کوئی اعتبار نہیں بلکہ اعتبار انہی لغات کا ہوگا جو بڑی ہیں اور جن میں تفصیل سے سنے بتائے جاتے ہیں اور عربی کی سب سے بڑی لغت تاج العروس ہے اور دوسرے نمبر پر لسان العرب ہے پہلی کتاب میں تو نبی کی بالکل رہی تعریف ہے جو قرآن کریم سے ثابت ہے اور دوسری کتاب میں بھی تقریبا ر ہی بیان ہے سوائے اس کے کہ اس میں یہ نہیں لکھا کہ اس کا نام نبی خدا تعالی رکھے لیکن جیسا کہ میں ن کر چکا ہوں یہ بات تو عقل چاہتی ہے اور بغیر اس کے کوئی نبی کہلا ہی نہیں سکتا۔ محمود احمد محدث ہونے سے انکار کے یہ معنے ہیں کہ آپ نے اس سے بڑے درجہ پانے کا دعوی کیا در نہ ہر نبی محدث ؟ ہر نبی محدث بھی ہے حتی کہ ہمارے انحضرت ا بھی محدث تھے۔ منہ ۵۶ ایک شخص نے لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو صرف یہ خصوصیت ہے کہ حدیث میں آپ کا نام بھی آیا ہے اور یہ آپ کو دوسرے اولیاء پر فضیلت ہے ورنہ ایسے نہیں تو سب بزرگ تھے اس شخص کو یہ لفظ یاد رکھنے چاہئیں کہ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا اور یہ کہ دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں اور جبکہ نہ تو ان لوگوں نے نبی کا خطاب پانے کے قابل درجہ پایا اور نہ وہ اس نام کے مستحق ہیں تو پھر اس کے کیا معنے ؟ کہ وہ بھی ایسے نبی تھے جیسے مرزا صاحب صرف بڑے چھوٹے کا فرق تھا اگر دور یسے ہی نہیں تھے تو ۵۵ وہ اس نام کے مستحق کیوں نہیں؟ مرزا محمود احمد ۵۷ حضرت مسیح ناصری نے سچ فرمایا ہے کہ اس تنکا کو جو تیرے بھائی کی آنکھ میں ہے کیوں دیکھتا ہے پر کانڈی پر جو تیری آنکھ میں ہے نہیں خیال کرتا وہ لوگ جو ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ تم مسیح موعود کو نبی قرار دیتے ہو اتنا نہیں سوچتے کہ ہم ایک شخص کو نبی قرار دیتے ہیں اور پھر اس کو جسے خدانے اور اس کے رسول نے بھی کہا ہے تو وہ اس قدر ناراض ہوتے ہیں اور کا فرد مرتد بنا دینے کی دھمکیاں دیتے ہیں اور لعنتوں کی بھر مار کرنے کا خوف دلاتے ہیں لیکن اپنا یہ حال ہے کہ ہزاروں آدمیوں کو (جن کو نہ خدا نے نبی کہانہ اس کے رسول نے نہ انہوں نے خود اپنے آپ کو نبی کہا اور نہ مسیح موعود زان کہ نبی کہا بلکہ مسیح موعود نے تو یہ کہا کہ وہ نبی کا نام پانے کے مستحق نہیں) نبی قرار دیتے ہیں شاہدرہ کہیں کہ ہم جزوی نبی کہتے ہیں سو یاد رہے کہ قرآن کریم کی کس آیت سے ثابت ہے کہ بغیر خداتعالی کے ازن کے اور بغیر کسی قرینہ کے کسی کو جزری نہی کہنا جائز ہے ؟ در حقیقت یہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک سزا ہے جو ان لوگوں کو ملی ہے بئْسَ لِلظَّالِمِينَ بدلا مسیح موعود کی نبوت سے انکار کیا اور اس کے نبی کہنے والوں کو اشاروں اشاروں میں کا فرو ملعون قرار دیا اور خود ہزاروں کو نبی کا خطاب دے دیا ایک طرف تو وہ تنگ دلی کہ جسے خدا ہی کہتا ہے اور اس کا رسول بھی اس کی نبوت سے انکار ہے اور دوسری طرف دو و سعت قلب کہ جنہوں نے نہ خود اپنے آپ کو بھی کہا اور نہ خدا نے نہ اس کے رسول نے ان کو نبی کہا بلکہ مسیح موعود نے ان کے نبی ہونے سے انکار کیا انہیں بھی نبی کا خطاب دے دیا جاتا ہے۔ مرزا محمود احمد شریعت نے نبی کی جو تعریف کی ہے اگر اسے لیا جائے تو مسیح موعود پر اس حدیث میں نبی کا لفظ استعارہ استعمال نہیں ہوا لیکن اگر لفظ نبی کے حقیقی معنے وہ قرار دیئے جائیں جو عوام الناس میں غلطی سے استعمال ہو رہے ہیں تو ان معنوں کے رو سے ہم مسیح موعود کی نسبت نبی کے لفظ کا استعمال استعارہ ہی مانتے ہیں کیونکہ اس صورت میں اس کے میں معنے ہوں گے کہ ایسا نہی جو شریعت نہیں لایا۔ اور اس