انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 44

انوار العلوم جلد ۲ م منصب خلافت کے واسطے تمام مکان کو چھوڑوں گا ۔ تب ابرھام نے جواب دیا اور کہا کہ اب دیکھ میں نے خداوند سے بولنے میں جرات کی اگر چہ میں خاک اور راکھ ہوں ۔ شاید پچاس صادقوں سے پانچ کم ہوں ۔ کیا ان پانچ کے واسطے تو تمام شہر کو نیست کرے گا؟ اور اس نے کہا اگر میں وہاں پنتالیس پاؤں تو نیست نہ کروں گا۔ پھر اس نے اس سے کہا شاید وہاں چالیس پائے جائیں ۔ تب اس نے کہا کہ میں چالیس کے واسطے بھی نہ کروں گا۔ پھر اس نے کہا کہ میں منت کرتا ہوں کہ اگر خداوند خفا نہ ہوں تو میں پھر کہوں ۔ شاید وہاں تیں پائے جائیں وہ بولا اگر میں وہاں تمھیں پاؤں تو میں یہ نہ کروں گا۔ پھر اس نے کہا دیکھ میں نے خداوند سے بات کرنے میں جرات کی ۔ شاید وہاں میں پائے جائیں ۔ وہ بولا میں میں کے واسطے بھی اسے نیست نہ کروں گا ۔ تب اس نے کہا میں منت کرتا ہوں کہ خداوند خفا نہ ہوں ۔ تب میں فقط اب کی بار پھر کہوں شاید وہاں دس پائے جائیں ۔ وہ بولا میں دس کے واسطے بھی اسے نیست نہ کروں گا۔ ( پیدائش باب ۱۸ آیت ۲۳ تا ۳۲ مطبوعہ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی انار کلی لاہور ۱۹۲۲ء ) قرآن شریف میں اس کی نسبت فرمایا فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ C ( الذرينت : ۳۷) غرض دس کے ذکر پر مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا تو کس قدر افسوس کی بات ہے کہ دس مولوی بھی نہ ملیں یہ بہت ہی رونے اور گڑ گڑانے اور دعاؤں کا مقام ہے کیونکہ جب علماء نہ ہوں تو دین میں کمزوری آجاتی ہے میں تو بہت دعائیں کرتا ہوں کہ اللہ اس نقص کو دور فرمادے ۔ یہ تجویز جو میں نے پیش کی ہے قرآن مجید نے ہی اس کو پیش کیا ہے چنانچہ فرمایا فَلَوْ لَا نَفَرْ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ (التوبة : ۱۳۲) سارے مؤمن تو ایک وقت اکٹھے نہیں ہو سکتے اس لئے یہ فرمایا کہ ہر علاقہ سے کچھ لوگ آئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور رہ کر دین حاصل کر کے اپنی قوم میں جا کر انہیں سکھائیں۔ یہ تو میری پہلی تجویز کی تائید قرآن مجید سے ہے یا یوں کہو کہ قرآن مجید کی ہدایت کے موافق میری پہلی تجویز ہے۔ دوسری تجویز بھی قرآن مجید ہی کی ہے چنانچہ فرمایا وَلتَكُن مِّنكُمُ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ (ال عمران : ۱۰۵) یہ آیت واعظین کی ایک ایسی جماعت کی تائید کرتی ہے جس کا کام ہی ہو۔ تعلیم شرائع ان امور کے بعد پھر تعلیم شرائع کا کام آتا ہے جب تک قوم کو شریعت ۔ سے واقفیت نہ ہو انہیں معلوم نہ ہو کہ انہوں نے کیا کرنا ہے عملی حالت کی اصلاح