انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 609

انوار العلوم جلد ۲ ۶۰۹ حقيقة النبوة أحصه اول۔ ہوتا ہے کہ آپ صرف نبی نہ تھے بلکہ امتی بھی تھے اور اس بات کے ہم مقر میں امتی ہونے سے یہ کیونکر ثابت ہوا کہ آپ نبی نہیں۔ مرزا محمود احمد ۲۴ اس حوالہ میں بھی نام نبوت اور نبی ہونے سے انکار کیا ہے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے کثرت سے غیب کی اطلاع نہیں دی جاتی یا یہ کہ خدانے میرا نام نبی نہیں رکھا اور اوپر کے الزامات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں کہ میں کوئی نیا ذاہب نہیں لایا کیونکہ ان الزامات میں ملائکہ کا انکار جبریل کا انکار اور بهشت و دوزخ کا انکار بھی شامل ہے نبوت کے انکار سے کیا مطلب ہے اس کا بیان آگے مذکور ہو گا مرزا محمود احمد ۲۵ اس حوالہ سے بھی ظاہر ہے کہ ختم نبوت کے معنے ہی حضرت مسیح موعود یہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر تمام کمالات ختم ہو گئے اور آپ کے بعد اب کوئی شخص کسی قسم کا کمال حاصل نہیں کر سکتا جب تک آپ سے ملی طور پر اسے حاصل نہ کرے جو لوگ علی کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ صرف نام اور کچھ نہیں جیسے یہ کہتے ہیں کہ ملی نہیں سے یہ مطلب نہیں کہ نبی ہو گئے بلکہ یہ مطلب ہے کہ آپ کا نام نہی رکھ دیا گیا وہ اس حوالہ پر غور کریں اس جگہ حضرت مسیح موعود نے کل کمالات نبوت کی نسبت فرمایا ہے کہ وہ خالی طور پر حاصل ہوتے ہیں اگر علی کے معنے وہی کئے جائیں جو یہ لوگ کرتے ہیں تو پھر اس کا یہ مطلب ہو گا کہ الہام اور رویا اور کشوف در حقیقت اولیاء کو کوئی نہیں ہوتے صرف الہام اور رویا اور کشوف ان کا نام رکھ دیا جاتا ہے کیونکہ الہام اور رویا تو بہت بڑے کمالات نبوت میں سے ہیں پس یہ اب کسی کو نہیں مل سکتے حضرت صاحب کی تحریر کے مطابق تو اب یہ کمال بھی عملی طور پر پیدا ہو سکتا ہے اور جو معنے ملی نہی کے کئے جاتے ہیں ان کے رو سے معلی شئے کوئی حقیقت نہیں رکھتی ہیں جب الہامات بھی علی ثابت ہو گئے تو الہامات سے بھی انکار کرنا پڑے گا اور کہنا پڑے گا کہ جس طرح حضرت مسیح موعود نبی نہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو ظلی نبی کہتے ہیں اسی طرح ان کے الہام در حقیقت الہام نہیں کیونکہ وہ ہر کمال نبوت کو ملی کہتے ہیں اور الہامات اعلیٰ ترین کمال نبوت ہیں اور اس طرح حضرت مسیح موعود اور ان سے پہلے سب بزرگوں کو ان کے رتبہ اور درجہ سے جواب دینا پڑے گا پھر میں کہتا ہوں کہ آپ کی مسیحیت اور مہدویت بھی تو عملی ہے پس چاہئے کہ جس طرح نبی کہنا جائز نہیں سمجھتے مسیح بھی نہ کیا کریں اور مہدی بھی نہ کہا کریں کیونکہ حضرت مسیح موعود تو تمام کمالات نبوت کو ظلی قرار دیتے ہیں اور مسیحیت سے مراد وہ کمالات ہیں جو حضرت مسیح میں تھے جو نبی تھے اور مہدویت سے مراد وہ کمالات ہیں جو مہدی اعظم حضرت محمد مصطفی ا میں تھے پن آپ کو نہ مسیح کہنا چاہئے اور نہ مہدی کیونکہ آپ کو جو کچھ ملاظتی طور سے ملا لیکن یہ خیال باطل ہے علی کے معنے صرف یہ ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے جو کچھ پایا آنحضرت ا سے پایا نہ یہ کہ آپ نہ نبی کہلا سکتے ہیں نہ مسیح نہ مہدی آپ نبی بھی تھے اور مہدی بھی تھے اور یہ سب مدارج آپ کے ملی تھے یعنی آنحضرت ا کی معرفت اور آپ کے عکس کو اخذ کر کے پائے اور جو اس کے خلاف سمجھتا ہے وہ حق پر نہیں۔ مرزا محمود احمد ۔ اس نکتہ کو خوب یاد رکھو کہ اس اشتہار میں حضرت صاحب نے اپنے ناقص نبی ہونے کی بھی تاویل فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ لفظ بھی صرف سادگی سے لکھا گیا ہے اور پھر لکھتے ہیں کہ میری مراد نبی سے صرف محدث ہے جہاں نبی کا لفظ لکھا جا چکا ہے اس کی جگہ محدث لکھ لیں اور اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں کئی لوگ ایسے گزرے ہیں کہ ان کو الہام ہوتا تھا مگر وہ نبی نہیں تھے لیکن یاد رہے کہ یہاں صرف کلام الہی لکھا ہے اور یہ نہیں لکھا کہ ان کو کثرت سے الہام ہوتے تھے جو اخبار غیب پر مشتمل تھے اور نبی ہونے کے لئے کثرت شرط ہے اس لئے وہ لوگ باوجود ظلم ہونے کے نبی نہیں کہلائے جیسا کہ آج کل کئی ایسے شخص ہیں جن کو الہام ہوتے ہیں لیکن چونکہ ان کے الہاموں میں کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع نہیں ہوتی اس لئے نبی نہیں کہلا سکتے۔ اسی طرح یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود نے اس جگہ یہ لکھا ہے کہ میں نبی نہیں محدث ہوں اور نبی سے میری مراد صرف محدث ہے لیکن یہ نہیں فرمایا کہ مجھے کثرت سے غیب نہیں چلایا جاتا پس آپ نبوت کی شرائط سے اس وقت بھی انکار نہیں کرتے باقی رہا یہ کہ آپ نے اپنے آپ کو بجائے رسول و نبی کے محدث کیوں کہا اس کا جواب مفصل آگے آئے گا۔ مرزا محمود احمد اس کا مطلب بھی آگے چل کر بیان ہو گا مگر یاد رہے کہ اس جگہ بھی حضرت مسیح موعود نے کیفیت نبوت کی تفصیل سے انکار نہیں کیا یعنی یہ نہیں کہا کہ مجھے اظہار علی الغیب کا رتبہ حاصل نہیں۔ مرزا محمود احمد ۲۸ اس حوالہ سے صاف ثابت ہے کہ آپ اس نبوت کا انکار کرتے ہیں جس سے قرآن شریف کو منسوخ قرار دیا جائے اور منی شریعت آئے۔ مرزا محمود احمد اس عبارت میں بھی ایسی نبوت کا انکار کیا گیا ہے جس میں عقائدہ اسلام سے منہ پھیر لیا جائے نہ کہ کسی اور نبوت کا لیکن اگر اسی کو تسلیم کر لیا جائے کہ ہر ایک نبوت کے آنے کا انکار کیا گیا ہے تو بھی اس کی تشریح آگے آجائے گی ہاں یہ یاد رہے کہ اس عبارت سے بھی یہ ثابت نہیں ہو تا کہ آپ پر کثرت سے غیب ظاہر نہیں ہوتا تھا۔ مرزا محمود احمد ۔