انوارالعلوم (جلد 2) — Page 607
انوار العلوم جلد ۲ ل ५-८ حقيقة النبوة (حصہ اول) میں اپنے مضمون کا اکثر حصہ ختم کر چکا تھا کہ سولہ تاریخ کو مجھے وہ رسالہ ڈاک میں مل گیا گو کافی دیر کے بعد ۔ منہ اس نشان کردہ عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود اس جگہ اپنی فضیلت کسی اور معاملہ میں بیان نہیں فرماتے بلکہ نبی اور حکم ہونے کے لحاظ سے اپنی فضیلت کا ذکر فرماتے ہیں کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ جو شخص پہلے مسیح کو افضل سمجھتا ہے اسے ثابت کرنا چاہئے کہ آنے والا مسیح نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ حکم جس سے معلوم ہوا کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ پہلا مسیح نہی تھا۔ اور حضرت مسیح موعود نہی نہ تھے بلکہ اسی طرح آپ کا نام نبی رکھ دیا گیا تھا جیسے آدمی کو شیر کہہ دیں۔ وہ جھوٹا ہے۔ مرزا محمود احمد ۔ اس جگہ کوئی اس بات سے دھوکا نہ کھائے کہ حضرت صاحب تو فرماتے ہیں کہ اس کتاب کے دو چار و رق باقی ہیں اور جس حوالہ پر بحث ہے وہ آخری دو ورق کے اندر ہے کیونکہ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں حضرت مسیح موعود نے کتاب کے شائع کرنے کے وقت صرف ایک صفحہ زائد لکھا ہے اور جبکہ حضرت مسیح موعود خود اس عقیدہ کو جو اس حوالہ میں درج ہے منسوخ قرار دے چکے ہیں۔ ان کتابوں سے جو ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئیں تو صاف ثابت ہے کہ یہ حوالہ پہلے کا لکھا تھا اور حضرت مسیح موعود نے کتاب کو ختم کرنے کے لئے صرف ایک صفحہ اور لکھ کر شائع کرنے کی اجازت دی اور حضرت مسیح موعود کی بات کی تصدیق شہادت نمبر اے سے بھی ہوتی ہے۔ یعنی اپنی طرف سے جھوٹے الہام بنا کر خدا کی طرف سے اپنے مامور ہونے کادعوی کرتا۔ منہ ه شرط سے مراد اس وقت ہماری اجزائے فصل میں شرط کا لفظ اس لئے اس جگہ استعمال کیا گیا ہے تا عوام سمجھ سکیں۔ اسی طرح خصوصیت و خصوصیات سے خاصہ غیر شاملہ مراد ہو گی۔ منہ اس تحریر سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود نبی اور محدث کو ہم معنے خیال کرتے ہیں کیونکہ یہاں محدث کا لفظ اس لئے بڑھایا گیا ہے کہ ہر ایک نبی محدث بھی ہوتا ہے ورنہ محدث اور نبی ایک نہیں ہیں جیسا کہ حضرت اقدس نے اشتہار ایک غلطی کا ازالہ میں فرمایا ہے کہ اگر خدا تعالٰی سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے " مرزا محمود احمد عد اس جگہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ نبی کے لئے لغت کے لحاظ سے بھی اور قرآن کریم کے لحاظ سے بھی کثرت اطلاع بر امور غیبیہ شرط ہے کیونکہ یہ صیغہ مبالغہ کا ہے لیکن جب لفظ نبوت بولیں تو اس کے دو معنے ہوں گے ایک تو اس لفظ کے معنے نہی کے مفہوم کو علیحدہ کر کے ہوں گے اور وہ صرف خبر دینے کے ہیں اور دوسرے معنے اس کے نبوت انبیاء کے لحاظ سے ہوں گے اس وقت اس کے معنوں میں کثرت کی شرط پائی جائے گی پس ایک شخص جو ایک زبردست خبر دے اس کی خبر کو یا رویا کو نبوت کہہ سکیں گے لیکن وہ نبی کا نام پانے کا مستحق نہ ہو گا جب تک اس کے الہامات میں کثرت سے غیب کی خبریں نہ ہوں اور وہ اہم امور کی نسبت نہ ہوں مرزا محمود احمد (دیکھو حوالہ نمبر ۸ جو آگے آتا ہے) اس بات کی تائید میں حضرت مسیح موعود کی کتاب حقیقۃ الوحی کا یہ حوالہ بھی پیش کیا جا سکتا ہے مگر بعد میں جو خداتعالی کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا اس سے ظاہر ہے کہ نبی کا خطاب اللہ تعالی ہی دے تو دے ورنہ آدمی کا حق نہیں کہ آپ ہی نبی بن جائے یا کسی دوسرے کو نبی کا خطاب دے دے جیسا کہ بعض لوگ سید عبد القادر جیلانی اور امام حسین کو نبی کہتے ہیں ایسے لوگ ایک طور پر خدائی کا دعوی کرتے ہیں اور جو کام خدا کا ہے اسے اپنے ہاتھوں میں لیتے ہیں تعجب ہے کہ جن لوگوں نے دعوائے نبوت کیا بھی نہیں ان کو تو نبی بنایا جاتا ہے اور جس کا نام خدا اور رسول نہیں رکھتے ہیں جو اپنا نام آپ نبی رکھتا ہے اس کی نبوت کی سو سو تاویلیں کی جاتی ہیں اور دوسروں کو اس کے ساتھ شامل کر کے اس کی نبوت کو مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے العجب العجب العجب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فرمانا بھی قابل غور ہے " انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نہیں رکھا ہے سو میں خدا کے حکم کے مطابق نبی ہوں اور اگر میں امر ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا کر تو میرا آگاہ ہو گا اس سے بھی ظاہر ہے کہ نبی وہی ہے جس کا نام خدا ہی رکھے اور اس کے حکم سے وہ اپنی نبوت کا اعلان کرے نہ کہ ہر کس و ناکس اٹھ کر جسے چاہے نبی کا خطاب دے دے خان بہادر کا خطاب تو گورنمنٹ کے سوا کوئی نہ دے سکے لیکن نبی جو چاہے کسی کو بنا دے۔ و اس جگہ کسی کو یہ خیال پیدا نہ ہو کہ حضرت مسیح موعود حقیقۃ الوحی میں تحریر فرماتے ہیں " یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوی میں نبی کا نام سن کرد ھو گا کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعوی کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں میرا ایسادی تغلطی پر ہیں میرا ایساد عوئی نہیں (حقیقۃ الوحی (حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۵۲ حاشیه ) اور یہ اس حوالہ کے خلاف ہے کیونکہ اس جگہ حضور نے یہ نہیں فرمایا کہ بلا واسطہ نبوت پانے والا ہی نبی کہلاتا ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ میری نبوت اس قسم نبوت سے نہیں جو پہلے انبیاء کو بلا واسطہ ملتی تھی اور قسم کے بدلنے سے نبوت کی نفی نہیں ہوتی بلکہ جیسا کہ میں