انوارالعلوم (جلد 2) — Page 604
انوار العلوم جلد ؟ ۶۰۴ حقية النبوة (حصہ اول) مسئلہ نبوت کے متعلق ایک فیصلہ کن دلیل ९९ - میں تتمہ حقیقہ النبوۃ بھی لکھ چکا تھا کہ ایک دوست نے پیغام لاہور کا ایک پرچہ نمبر ۸۳ جلد ۲ مورخہ ۱۲ جنوری ۱۹۱۵ء مجھے دکھایا جس میں مسئلہ نبوت کے متعلق ایک فیصلہ کن دلیل " کی سرخی کے نیچے بڑے زور سے یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جو اپنی بات بلا دلیل منوائے ۔ چنانچہ لکھا ہے " پس یہ فرق یاد رکھو کہ ایک نبوت کا کام ہوتا ہے اور دوسرا انعام کام یہ ہے کہ اللہ (تعالی) کی طرف سے حکم پاکر لوگوں کو پہنچاتا ہے اور بلا کسی دلیل کے اس حکم کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کے لئے کہتا ہے ایسا شخص حقیقی اور مستقل ہوتا ہے لیکن جس کا حکم بغیر کسی ۱۵۔ اور دلیل کے واجب التعمیل نہیں وہ حقیقی معنوں میں نبی نہیں ہو سکتا۔ مثلاً اگر مرزا صاحب وفات مسیح کی بابت خدا سے علم پا کر بغیر کسی اور دلیل کے ہمیں منواتے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ وہ حقیقی اور مستقل نبی ہیں لیکن جبکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا اور باوجود خدا سے علم حاصل کرنے کے اس پر بحث اور عالمانہ جرح و قدح کی ہے اور پھر قرآن سے دلائل دے کر ہمیں منوایا ہے تو اس صورت وہ حقیقی نبی نہیں ہو سکتے ۔ میں تو اس مضمون پر جس قدر غور کرتا ہوں حیرت و تعجب زیادہ ہی زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ اول تو حیران ہوں کہ بلا دلیل منوانے کا مطلب کیا ہے کیا نبی ہر اس شخص کو کہتے ہیں جس کی بات بلا دلیل ہو یا یہ کہ نبی اس کو کہتے ہیں جو لوگوں سے بلا دلیل بات منوائے؟ اگر اس بات کو درست مان لیا جائے تو اول تو نبیوں سے زیادہ قابل رحم جماعت دنیا میں کوئی نہیں رہتی کہ وہ جو بات کہتے ہیں بلا دلیل کہتے ہیں کیونکہ دلیل کا نام آیا اور نبوت باطل ہو گئی۔ دوم اس دلیل سے عیسائیوں کی خوب چڑھ بنے گی وہ آگے ہی اپنی بے سروپا باتوں کے لئے یہی دلیل دیا کرتے ہیں کہ انجیل میں یونہی آیا ہے تم لوگ مان لو خدا کے نوشتوں میں ایسا لکھا ہے قبول کرو جب کہا جائے کہ آپ لوگوں پر حجت ہے نہ ہم پر ۔ تو کہہ دیتے ہیں۔ نہیں خدا کا کلام ہے سب پر حجت ہے پس اس دلیل سے تو ان کی بات ثابت ہے۔ کیونکہ نبی کے لئے شرط ہے کہ اس کی باتیں بلا دلیل ہوا کریں اور دلیل نہ دیا کرے صرف اس قدر کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا کہا ہے اسے مان لو تیسرے یہ نقص آتا ہے کہ قرآن کریم کی اور آنحضرت ا کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ قرآن کریم