انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 599

انوار العلوم جلد ؟ ۵۹۹ حقيقة النبوة ( حصہ اول ) نہ اس لئے کہ ایک نبی دوسرے نبی کا متبع نہیں ہو تا بلکہ اس لئے کہ اس سے یا مہر نبوت ٹوٹتی ہے یا حضرت مسیح کی ہتک ہوتی ہے۔ اگر کہو کہ پہلے نبیوں کے ماتحت بھی تو مستقل نبی کام کرتے رہے ہیں اور آنحضرت ا کا ان سے بڑا درجہ ہے آپ کے ماتحت کیوں مستقل نبی کام نہیں کر سکتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے نبی خاتم النبین نہ تھے اس لئے ان کے بعد براہ راست نبوت پانے والے نبیوں کا آنا ان کی جنگ کا باعث نہ تھا مگر ہمارے آنحضرت ا خاتم النبین ہیں اس لئے آپ کی اس میں ہتک ہے آپ کی قوت فیضان ایسی ہے کہ آپ اپنے شاگردوں میں سے اعلیٰ درجہ کے انسان پیدا کر سکتے ہیں اور ضرورت نہیں کہ دوسرے نبیوں کو اپنی مدد کے لئے بلائیں۔ (۳) یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ مَا نَعْنِي مِنَ النُّبُوَّةِ مَا يُعْنَى فِي الصُّحُفِ الأولى سواس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات بالکل درست ہے پہلے صحف میں نبوت سے مراد وہ نبوت ہوتی تھی جو براہ راست ملتی تھی کیونکہ وہ نبی بلا واسطہ نبی بنتے تھے لیکن آپ کی تحریروں میں جہاں نبی کا لفظ آیا ہے اس کے صرف یہ معنے ہیں کہ آپ نے رسول اللہ کے فیضان سے نبوت کا درجہ پایا ہے ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے نبی کسی اور وجہ سے نبی کہلاتے تھے اور آپ اور وجہ سے ۔ نبوت کے لحاظ سے تو ایک ہی نبوت ہے ہاں مذکورہ بالا حوالہ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح پہلے صحف میں نبی کے لفظ سے یہ مراد ہوتی ہے کہ انہوں نے براہ راست نبوت پائی میری نسبت جب لفظ نبی بولا جائے تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی جیسا کہ فرماتے ہیں :- " یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوی میں نبی کا نام سن کر دھو کا کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں میرا ایسا دعوئی نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت ا کے افامئہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا ۔ " (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۴ حاشیه ) پس اس حوالہ سے یہی مراد ہے کہ آپ کی نبوت پہلے نبیوں کی طرح براہ راست نہیں ورنہ نبوت کے لحاظ سے آپ کوئی فرق تسلیم نہیں کرتے جیسا کہ فرماتے ہیں " منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے ۔ “ ایک غلطی کا ازالہ مش