انوارالعلوم (جلد 2) — Page 596
انوار العلوم جلد ۲ ۵۹۶ حقيقة النبوة (حصہ اول ) کی آیت کے ایسے معنی کرنے جو مشاہدہ اور دوسری آیات کے مفہوم کے خلاف ہوں ہرگز درست نہیں اس آیت کے تو صرف یہ معنے ہیں کہ ہر رسول اس لئے بھیجا جاتا ہے کہ لوگ اس کا حکم مانیں اور یہ معنے ہرگز نہیں کہ وہ کسی کی نہ مانے اور مشاہدات کے یہ بات خلاف ہے اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے اَطِيْعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ (النساء:۲۰) تو کیا اولو الامر کو رسول کی اطاعت سے آزادی حاصل ہو گئی پھر اس قدر تو غور کرو کہ حضرت مسیح اپنے وقت کے حکام کی اطاعت کرتے تھے یا نہیں پس کیا ان کی نبوت سے انکار کر دیں۔ جب ایک غیر مذہب کے حاکم کی اطاعت سے رسالت میں فرق نہیں آجاتا تو ایک دوسرے نبی کی اطاعت سے کیوں فرق آجاتا ہے اگر کہو کہ دین میں اطاعت کسی اور کی نہ کرے تو میں کہتا ہوں یہ بھی غلط ہے کیا نبی اللہ تعالٰی کی اطاعت نہیں کرتا۔ معلوم ہوا کہ خصوصیتیں تو ضرور ساتھ لگانی پڑیں گی۔ پس یہ کوئی اعتراض نہیں حضرت مسیح موعود ایک زمانہ میں عوام کے عقیدہ کے مطابق نبی کی ایک تعریف کرتے رہے اور عوام کے عقیدہ کے مطابق اس آیت سے بھی یہ استدلال کرتے رہے کہ کسی قسم کانبی کسی اور نبی کا مطیع نہیں ہو سکتا لیکن جب انکشاف تام ہوا تو پھر ان معنوں کو بدل دیا ۔ اگر کہو کہ کیا آیت قرآنی بھی حضرت مسیح موعود درست نہ سمجھے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء نہایت محتاط ہوتے ہیں جب تک کوئی بات خدا کی طرف سے نہ بتائی جائے۔ وہ عوام کے عقائد کا تتبع کرتے ہیں۔ رسول اللہ ا نے باوجود نفرت کے شراب اور متعہ کو اور سود کو اس وقت تک حرام نہ کیا جب تک وحی الہی کا فیصلہ نہ ہوا اسی طرح حضرت مسیح موعود اپنے دعوے سے پہلے متوفیک کے معنے اپنے انعامات سے وافر حصہ دوں گا کرتے رہے حالانکہ بعد کی کتب میں لکھا کہ جب اللہ تعالیٰ فاعل ہو اور کوئی ذی روح مفعول ہو تو اس وقت اس لفظ کے معنے صرف قبض روح کے ہوتے ہیں پس بات یہی ہے کہ جب تک انکشاف نام نہ ہو یہ لوگ عوام کے خیالات کو نہیں چھوڑتے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ وفات سے پہلے ان کو اصل بات کا پتہ بتا دیا جاتا ہے۔ تا نہ ہو کہ لوگ ان کی ہر ایک بات کو غیر الہامی کہہ کر ٹال دیں۔ پس جس طرح حضرت مسیح موعود متوفیک کے معنے پہلے پورے طور پر انعام کرنے کے کرتے رہے حالانکہ بعد میں لکھ دیا کہ اس لفظ کے معنے جب اللہ تعالیٰ فاعل ہو تو قبض روح کے سوا اور کچھ ہو ہی نہیں سکتے اسی طرح اس وقت تک کہ آپ نبی کے لئے یہ شرط سمجھتے تھے کہ کسی دوسرے نبی کا تتبع نہ ہو آیت مذکورہ کے بھی یہی معنے کرتے رہے کہ کوئی نبی دوسرے نبی کا متبع نہیں ہو سکتا اور بعد میں صاف لکھ دیا کہ نبی کے لئے یہ کوئی شرط نہیں کہ وہ کسی