انوارالعلوم (جلد 2) — Page 42
انوار المعلوم جلد ۲ ۴۲ منصب خلافت اور غرض نہ تھی محض اعلائے سلسلہ کی غرض سے میں نے یہ تحریک کی تھی۔ باوجود یہ کہ بڑے بڑے آدمیوں نے مخالفت کی آخر اللہ تعالی نے اس مدرسہ کو قائم کر ہی دیا ۔ اُس وقت سمجھنے والوں نے نہ سمجھا کہ اس مدرسہ کی کس قدر ضرورت ہے اور مخالفت میں حصہ لیا۔ میں دیکھتا تھا کہ علماء کے قائم مقام پیدا نہیں ہوتے ۔ میرے دوستو! یہ معمولی مصیبت اور دکھ نہیں ہے کہ دکھ نہیں ہے کیا تم چاہتے ہو۔ ہاں کیا تم چاہتے ہو کہ فتوئی پوچھنے کیلئے تم ندوہ اور دوسرے غیر احمدی مدرسوں یا علماء سے سوال کرتے پھرو۔ جو تم پر کفر کے فتوے د۔ ڈے دے رہے ہیں؟ دینی علوم کے بغیر قوم مُردہ ہوتی ہے پس اس۔ اس خیال کو مد نظر رکھ کر با وجود پُر جوش مخالفت کے میں نے مدرسہ احمدیہ کی تحریک کو اٹھایا اور خدا کا فضل ہے که وه مدرسه دن بدن ترقی کر رہا ہے۔ لیکن ہمیں تو اس وقت واعظ اور معلموں کی ضرورت ہے تعلیم یافتہ نکلیں گے اور انشاء اللہ وہ مفید ثابت ہونگے مگر ضرورتیں ایسی ہیں کہ ابھی ہو۔ ملیں۔ ۔ میرا اپنا دل تو چاہتا ہے کہ گاؤں گاؤں ہمارے علماء اور مفتی ہوں جن کے ذریعہ ذریعہ علوم دینیہ کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری ہوا اور کوئی بھی احمدی باقی نہ رہے جو پڑھا لکھا نہ ہو اور علوم دینی سے واقف نہ ہو۔ میرے دل میں اس غرض کے لئے بھی عجیب عجیب تجویزیں ہیں جو خدا چاہے گا تو پوری ہو جائیں گی ۔ مدرسہ سے غرض یہ ضروری سوال ہے کہ مبلغ کہاں سے آویں؟ اور پھر چونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر قوم اور ہر زبان میں ہماری تبلیغ ہو اس لئے ضرورت ہے کہ مختلف زبانیں سکھائی جاویں۔ حضرت خلیفة المسیح کی زندگی میں میں نے ارادہ کیا تھا کہ بعض ایسے طالب علم ملیں جو سنسکرت پڑھیں اور پھر وہ ہندوؤں کے گاؤں میں جا کر کوئی مدرسہ کھول دیں اور تعلیم کے ساتھ تبلیغ کا سلسلہ بھی جاری رکھیں اور ایک عرصہ تک وہاں رہیں جب اسلام کا بیج بویا جائے تو مدرسہ کسی شاگرد کے سپرد کر کے آپ دوسری جگہ جا کر کام کریں ۔ غرض جس رنگ میں تبلیغ آسانی سے ہو سکے کریں۔ ے ہوں ۔ یہ اس قسم کے لوگوں کی بہت بڑی ضرورت ہے جو خدمت دین کیلئے نکل کھڑے ۔ ضرورت کس طرح پوری ہو ایک سہل طریق خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ایک مدرسہ ہو تم باہم مل کر اس کے لئے مشورہ کرو۔ پھر میں غور کروں گا میں پھر کہتا ہوں کہ میں تم سے جو مشورہ کر رہا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے نیچے کر رہا ہوں ۔ قرآن مجید میں اس نے فرمایا ہے وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ (آل عمران : ۱۶۰) پس تم مشورہ کر کے مجھے بتاؤ۔ پھر اللہ تعالی جو کچھ میرے دل میں ڈالے گا میں اس پر تَوَ لا عَلَى اللهِ