انوارالعلوم (جلد 2) — Page 576
انوار العلوم جلد ۲ ۵۷۶ حقيقة النبوة (حصہ اول) حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مہر نہیں ٹوٹتی ۲ یہ بات ظاہر ہے کہ جیسا کہ میں اپنی نسبت کہتا ہوں کہ خدا نے مجھے رسول اور نبی کے نام سے پکارا ہے ایسا ہی میرے مخالف حضرت عیسیٰ ابن مریم کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ ہمارے نبی ا کے بعد دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور چونکہ وہ نبی ہیں اس لئے ان کے آنے پر بھی وہی اعتراض ہو گا جو مجھ ۔ ہو گا جو مجھ پر کیا جاتا ہے یعنی یعنی یہ کہ خاتم النبین کی مہر ختمیت ٹوٹ جائے گی۔ مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ا کے بعد جو درحقیقت خاتم النبین تھے مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارا جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے صر ختمیت ٹوٹتی ہے کیونکہ میں بارہا بتلا چکلا ہوں کہ میں بموجب آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت کا ہی وجود قرار دیا ہے پس اس طور سے آنحضرت کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں اے پس اس طور سے خاتم النبین کی مہر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی یعنی بہر حال محمد ہی نبی رہا نہ اور کوئی یعنی جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت ا ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمد ی مع نبوت محمد یہ کے میرے آئینہ ملکیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعوی کیا بھلا اگر مجھے قبول نہیں کرتے تو یوں سمجھ لو کہ تمہاری حدیثوں میں لکھا ہے کہ مہدی موعود خلق اور خلق میں ہم رنگ آنحضرت ا ہو گا اور اس کا اسم آنجناب اللہ کے اسم سے مطابق ہو گا یعنی اس کا نام بھی محمد اور احمد ہو گا۔ اور اس کے اہل بیت میں سے ہو گا ۳ اور بعض حدیثوں میں ہے کہ مجھ میں سے ہو گا۔ یہ عمیق اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ وہ روحانیت کے رو سے اس نبی میں سے نکلا ہوا ہو گا۔ اور اس کی روح کا روپ ہو گا اس پر نہایت قوی قرینہ یہ ہے کہ جن الفاظ کے ساتھ آنحضرت اللہ نے تعلق بیان کیا یہاں تک کہ دونوں کے نام ایک کر دیئے ان الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت اللہ اس موعود کو اپنا بروز بیان فرمانا چاہتے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ کا یشوعا بروز تھا۔ اور بروز کے لئے یہ ضرور نہیں کہ بروزی انسان صاحب بروز کا بیٹا یا نواسہ ہو ہاں یہ ضرور ہے کہ روحانیت کے تعلقات صاحب با بروز میں سے نکلا ہوا ہو۔ اور ازل سے باہمی کشش اور باہمی تعلق درمیان ہو ۔ سو یہ خیال آنحضرت ﷺ کی شان معرفت کے سراسر خلاف ہے کہ آپ اس کے لحاظ ظ سے سے شخص ۔ مورد بروز صاد