انوارالعلوم (جلد 2) — Page 573
انوار العلوم جلد ؟ ۵۷۳ حقيقة النبوة (حصہ اول) گیا سو اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت اللہ ا تو خاتم خاتم اللہ النبین ہیں پھر ر آپ آپ ۔ کے بعد اور نبی کس طرح آسکتا ہے اس کا جواب یہی ہے کہ بے شک اس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پرانا نہیں آسکتا جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ میں از میں اتارتے ہیں۔ اور پھر اس حالت میں ان کو نبی بھی مانتے ہیں۔ بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے بیشک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے اور آیت ولكن رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ اور حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِی اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے لیکن ہم اس قسم کے عقائد کے سخت مخالف ہیں اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ والكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبين اور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے۔ کہ اللہ تعالی اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت السلام کے بعد بعد پینگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے ۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنافی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لئے بلکہ اس کے جلال کے لئے ۔ اس لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد کو ہی ملی گو بروزی طور پر ۔ مگر نہ کسی اور کو۔ پس یہ آیت کہ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَالكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّنَ (الاحزاب : (۴۱) اس کے معنی یہ ہیں یہ ہیں کہ لَيْسَ مُحَمَّدًا بَا اَحَدٍ أَحَدٍ مِنْ رِجَالِ الدُّنْيَا وَلكِنْ هُوَ ابٌ الِرِجَالِ الْآخِرَةِ لَا نَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّنَ وَلَا سَبِيلَ إِلى فُيُوضِ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ تَوَ سُطِهِ عرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے۔ نہ میرے نفس کے رو سے اور یہ نام بحیثیت فنافی الرسول مجھے ملا۔ لہٰذا خاتم النبین کے مفہوم میں فرق نہ آیا لیکن عیسی کے اترنے سے ضرور فرق آئے گا۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ نبی کے معنے لغت کے رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پاکر غیب کی خبر دینے والا۔ پس جہاں یہ معنے صادق آئیں گے نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا اور نبی کا رسول ہونا شرط ہے۔ کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو پھر غیب مصفی کی خبر اس کو مل نہیں سکتی۔ اور یہ آیت روکتی ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولِ (الجن : ۲۷) اب اگر