انوارالعلوم (جلد 2) — Page 566
انوار العلوم جلد ۲ ۵۶۶ حقيقة النبوة (حصہ اول) لوگوں کی ایک جماعت روزانہ دیکھتے ہوں گے پھر آپ کو احمدی جماعت کے ضال بنانے کا خیال کیوں پیدا ہوا ؟ آپ پوچھتے ہیں کہ کیا کوئی امت پہلی امتوں میں سے ایسی بھی گزری ہے جس نے تفریط سے کام لیا ہو سب قومیں افراط سے ہی کام لیتی رہی ہیں پس ثابت ہوا کہ اس وقت بھی افراط سے ہی کام لیا جا رہا ہے لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کیا پہلی امتوں میں سے کوئی ایسی امت گزری ہے جس میں خود اس جماعت نے جو جو نبی نبی کے ہاتھ پر تیار ہوئی ہو اور اس کے فیض صحبت سے تیار ہوئی ہو افراط سے کام لیا ہو اور اس جماعت کا اکثر حصہ غالی اور ضال ہو گیا ہو ۔ اگر پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ اور یقینا کبھی نہیں ہوا۔ تو آپ جو پہلی امتوں کی نظیر سے فیصلہ کرنا چاہتے ہیں بتائیں کہ آپ ہم پر غلو کا الزام کس طرح لگا سکتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ ایک قلیل گروہ کو ٹھوکر لگی ہو لیکن یہ بات آپ ہرگز ثابت نہیں کر سکتے کہ نبی کے وقت کی جماعت کا اکثر حصہ گندہ ہو گیا ہو اور آپ اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ آپ قلیل ہیں اور ہم زیادہ ہیں مگر شاید كَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ کہہ کر یہ ثابت کرنا چاہیں کہ اکثر ہوتے ہیں تو آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ان جماعتوں کی نسبت نہیں جو نبی کی تیار کردہ ہوتی ہیں اگر ان کے اندر بھی اکثر فاسق ہوں اور کم ہدایت یافتہ تو نبی پر نا کام جانے کا الزام آتا ہے۔ اور اگر آپ کے اس قاعدہ کو انبیاء اور مأمورین کے وقت کی جماعتوں پر بھی لگایا جائے تو اس وقت مولوی یار محمد صاحب کی جماعت بہت کم ہے۔ اور پھر تیما پوری صاحب کی کہ اول الذکر کے ساتھ دو تین آدمی ہیں۔ اور مؤخر الذکر کے ساتھ دس پندرہ یا کچھ زیادہ پس آپ کے بتائے ہوئے قاعدہ کے ماتحت تو وہ دونوں ہدایت پر ہوں گے اصل بات یہ ہے کہ جب کبھی آیات قرآنیہ کا غلط ر اس استعمال کیا جائے گا ضرور ٹھوکر لگے گی۔ فاسق ہاں آپ ایک : جواب اور دے سکتے ہیں اور وہ یہ کہ مسیح ناصری کے بعد اس کی جماع اس کی جماعت میں غلو پیدا ا ہو گیا۔ اور حواری بگڑ گئے۔ لیکن آپ کا یہ قول کسی مسیحی پر حجت ہو گا نہ مسلمانوں پر کیونکہ قرآن کریم میں حواریوں کے بگڑنے کے ذکر کی بجائے ان کی تعریف آئی ہے اور مسلمانوں کو کہا ہے کہ تم بھی حواریوں کی طرح انصار اللہ بن جاؤ ۔ پس حواریوں کی نظیر کو تبھی پیش کیا جا سکتا ہے جب قرآن کو چھوڑ دیا جائے ۔ ہاں آپ یہ کہہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعد میں تو امتوں نے غلو کیا ہے تو میرا جواب یہ ہے کہ بعد میں تفریط بھی کی ہے خود لاہور میں چکڑالویوں کی جماعت موجود ہے ان سے دریافت کر لیں کہ وہ رسول اللہ ا کا درجہ کا درجہ کیا سمجھتے ہیں اورا اور ان کے قول کو کہاں تک حجت خیال کرتے کریم کو