انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 557

انوار العلوم جلد ؟ ۵۵۷ حقيقة النبوة (حصہ اول) نبوتوں کو روک دیا۔ یعنی تشریعی اور مستقل نبوت کو ۔ پس ایسے نبی ہو سکتے ہیں جو آنحضرت ا کے فیض سے نبی ہوں۔ اب ہم دوسرے حوالہ کو دیکھتے ہیں۔ کیا یہ بھی نبوت کے دروازہ کو کسی قدر بند کرتا ہے کہ نہیں۔ لیکن اس سے پہلے اس قدر اور بھی معلوم ہونا چاہئے کہ نبوت امت محمدیہ میں ملتی کس طرح ہے۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں :- " اگر کوئی شخص اس خاتم النبین میں ایسا تم ہو کہ باعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو ۔ اور صاف آئینہ کی طرح محمدی " چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔ " ( ایک غلطی کا ازالله روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۰۹) سے پھر فرماتے ہیں :- مسیح موعود کی نبوت ملی طور پر ہے کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کا بروز کامل ہونے کی وجہ نفس نبی سے مستفیض ہو کر نبی کہلانے کا مستحق ہو گیا ہے ۔ “ ( تذکرۃ الشہادتین صفحه ۴۵ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۵) مذکورہ بالا دونوں حوالوں کو ملا کر معلوم ہوتا ہے کہ اس امت میں نبوت پانے کا یہی طریق ہے که انسان آنحضرت ا کا بروز کامل ہو۔ اور آپ کے کمالات کو اپنے اندر جذب کرے۔ اور ایسا محو ہو کہ خدا تعالیٰ اس کا نام محمد و احمد ہی رکھ دے اور یہ کہ اب نبوت کوئی نئی نہیں بلکہ بوجہ کمال مشابہت اور آنحضرت ا کے کل کمالات کو آئینہ کی طرح اپنے اندر لے لینے کے ایک شخص نبی ہو سکتا ہے کیونکہ جو بروز کامل ہو گا وہ ضرور نبوت کا عکس بھی حاصل کرے گا۔ اب ختم نبوت کے ان معنوں کو لو کہ رسول اللہ میں نبوت کے کل کمال پائے جاتے تھے ۔ اور ادھر اس بات پر غور کرو کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جو آنحضرت ا کا مظہر ا تم ہو ۔ کیونکہ اس امت کے نبی کو آنحضرت ا کی نبوت ہی ملی طور پر حاصل کرنی پڑتی ہے نہ کوئی جدید نبوت ۔ لیکن ہمارے آنحضرت ا سے پہلے یہ قاعدہ نہ تھا بلکہ بنی اسرائیل میں سے ہر ایک نبی کے لئے ضروری نہ تھا کہ وہ خود حضرت موسیٰ جیسے کمال پیدا کرے تب نبی ہو ۔ کیونکہ نبوت ظلی نہ تھی بلکہ براہ راست ملا کرتی تھی۔ لیکن اب نظل نبوت ہے اور اسی وقت مل سکتی ہے جب کوئی شخص انحضرت ا کے کل کمالات اپنے اندر ظلی طور پر اخذ کرے ۔ اور گویا من تو شدم والا معاملہ ہو کر اس کا ہر کام رسول اللہ اللہ کا نمونہ ہو جائے۔ اور ہم قرآن کریم میں واخَرِينَ مِنْهُمْ والی آیت سے معلوم کرتے ہیں کہ ایسا شخص مسیح موعود ہی ہو گا۔ پس وہی نبی ہو سکتا تھا۔ اور اگر