انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 38

انوار العلوم جلد ۲ منصب خلافت سامان کرے گا ۔ آپ اُن سعادت مند روحوں کو میرے پاس لائے گا جو ان کاموں میں میری مددگار ہونگی۔ میں خیالی طور پر نہیں کامل یقین اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ ان کاموں کی تکمیل و اجراء کے لئے کسی محاسب کی تحریکیں کام نہیں دیں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام سے خود وعدہ کیا ہے کہ يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمُ تیری بد و وه لوگ کریں گے جن کو ہم وحی کریں گے۔ پس ہمارے محاسب کا عہدہ خود خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے اور وعدہ فرمایا ہے کہ روپیہ دینے کی تحریک ہم خود لوگوں کے دلوں میں کریں گے ۔ ہاں جمع کا لفظ استعمال کر کے بتایا کہ بعض انسان بھی ہماری اس تحریک کو پھیلا کر ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔ پس خدا آپ ہی ہمارا محاسب اور محصل ہوگا اسی کے پاس ہمارے سب خزانے ہیں ۔ اس نے آپ ہی وعدہ کیا ہے ۔ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِم پھر ہمیں کیا فکر ہے ؟ ہاں ثواب کا ایک موقع ہے۔ مبارک وہ جو اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔ ہندوستان میں تبلیغ تبلیغ کے سلسلہ میں میں چاہتا ہوں کہ ہندوستان کا کوئی قصبہ یا گاؤں باقی نہ رہے جہاں ہماری تبلیغ نہ ہو۔ ایک بھی بستی باقی نہ رہ جاوے جہاں ہمارے مبلغ پہنچ کر خدا تعالیٰ کے اس سلسلہ کا پیغام نہ پہنچا دیں اور خوب کھول کھول کر انہیں نہ سنا دیں۔ یہ کام معمولی نہیں اور آسان بھی نہیں ہاں اس کو آسان بنا دینا اور معمولی کر دینا خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے۔ ہمارا یہ کام نہیں کہ ہم لوگوں کو منوا دیں البتہ یہ کام ہمارا ہے اور ہونا چاہئے کہ ہم انہیں حق پہنچا دیں وہ مانیں نہ مانیں یہ اُن کا کام ہے وہ اگر اپنا فرض پورا نہیں کرتے تو اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم بھی اپنا فرض پورا نہ کریں ۔ اس موقع پر مجھے ایک بزرگ کا واقعہ یاد آیا کہتے ہیں کہ ایک بزرگ ہیں ۲۰ برس سے دعا کر رہے تھے وہ وہ ہر روز دعا کرتے اور صبح کے قریب اُن کو جواب ملتا ما نگتے رہو میں تو کبھی بھی تمہاری دعا قبول نہیں کروں گا۔ بیس برس گزرنے پر ایک دن ان کا کوئی مرید بھی ان کے ہاں مہمان آیا ہوا تھا اس نے دیکھا کہ پیر صاحب رات بھر دعا کرتے ہیں اور صبح کے قریب ان کو یہ آواز آتی ہے۔ یہ آواز اس مرید نے بھی سنی ۔ تیسرے دن اس نے عرض کیا کہ جب اس قسم کا سخت جواب آپ کو ملتا ہے تو پھر آپ کیوں دعا کرتے رہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ تو بہت بے استقلال معلوم ہوتا ہے بندے کا کام ہے دعا کرنا ۔ خدا تعالیٰ کا کام ہے قبول کرنا ۔ مجھے اس