انوارالعلوم (جلد 2) — Page 524
انوار العلوم جلد ۲ ۵۲۴ حقيقة النبوة ( حصہ اول) (۲) ” جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ لگتا ہے اس کا انہیں حدیثوں میں یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی بھی ہو گا۔ اور امتی بھی" (حقیقۃ الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۳ ) - (۳) ”سو میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔" (۴) ”خدا تعالیٰ نے مجھے انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھرایا ہے۔ اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں۔ میں شیث ہوں۔ میں نوح ہوں میں ابراہیم ہوں۔ میں اسحق ہوں۔ میں اسمعیل ہوں۔ میں یعقوب ہوں۔ میں یوسف ہوں۔ میں موسیٰ ہوں۔ میں داؤد ہوں۔ میں عیسیٰ ہوں۔ اور آنحضرت اللہ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں۔ یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد (حقیقة الوحی- روحانی خزائن جلد ۲۲ ص حاشیه) (۵) (الهام) يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا بِانَ رَبَّكَ أو حلى لها ( ترجمه از حضرت مسیح موعود) اس دن زمین اپنی باتیں بیان کرے گی کہ کیا اس پر گزرا خدا اس کے لئے اپنے رسول پر وحی نازل ९९ ہوں ۔ " کرے گا کہ یہ مصیبت پیش آئی ہے ۔ " (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۹۵) (۶) خدا کی مہر نے یہ کام کیا۔ کہ آنحضرت ا کی پیروی کرنے والا اس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ امتی ہے۔ اور ایک پہلو سے نبی (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۹۹- مانیم (۷) اور خود حدیثیں پڑھتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت اللہ کی امت میں بنی اسرائیلی نبیوں کے مشابہ لوگ پیدا ہوں گے ۔ اور ایک ایسا ہو گا کہ ایک پہلو سے نبی ہوگا۔ اور شور ایک پہلو سے امتی۔ وہی مسیح موعود کہلائے گا۔ " (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۰۴ هامه ) (۸) ” خدا تعالی کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت ا اللہ کے افاضئہ روحانیہ کا کمال ثابت ९९ کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا "۔ (حقیقة الوحی سه حاشیه روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه (۱۵۴) (۹) پس اس میں کیا شک ہے کہ میری پیشگوئیوں کے بعد دنیا میں زلزلوں اور دوسری آفات کا سلسلہ شروع ہو جانا میری سچائی کے لئے ایک نشان ہے یاد رہے کہ خدا کے رسول کی خواہ کسی ९९ حصہ زمین میں تکذیب ہو ۔ مگر اس تکذیب کے وقت دوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے ؟ جاتے ہیں ۔ " (حقیقۃ الوحی به روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۵) - (۱۰) ” اور کانگڑہ اور بھا کسو کے پہاڑ کے صدہا آدمی زلزلہ سے ہلاک ہو گئے ان کا کیا تصور تھا۔ حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۶۳