انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 519

انوار العلوم جلد ؟ r ۵۱۹ حقيقة النبوة (حصہ اول) الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَ مُنْذِرِينَ یعنی ہم رسولوں کو جو بھیجتے ہیں تو ان کا کام تبشیری اور انداری رنگ کی پیشگوئیاں کرنا ہوتا ہے۔ اس آیت میں اظہار علی الغیب کی اللہ تعالیٰ نے تفسیر فرما دی ہے کہ کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع ملنے سے یہ مراد ہے۔ کہ وہ قوموں کی ترقیوں اور تباہیوں کے متعلق ہوں۔ اور یہ شرط بھی حضرت مسیح موعود میں پائی جاتی ہے۔ پس آپ بموجب فرمودہ قرآن کریم نبی ہیں۔ (۶) چھٹی دلیل حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے کی یہ ہے کہ اگر آپ کو نبی نہ مانا جائے ۔ تو ایک خطر ناک نقص پیدا ہو جاتا ہے جو انسان کو کافر بنا دینے کے لئے کافی ہے یعنی یا تو اللہ تعالی پر نعوذ باللہ من ذلک غلط بیانی کا اتہام لگانا پڑتا ہے یا حضرت مسیح موعود پر جھوٹ کا الزام اور اللہ تعالی تو وہ پاک ذات ہے کہ جو سب خوبیوں کی جامع ہے۔ اور سب بدیوں سے منزہ ہے۔ اور بدی تو الگ رہی ۔ بد کن سے بھی بیزار ہے۔ اور نیکی اور خوبی تو اس کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اس کے سب کام اچھے اور ہر بات خیر والی ہے۔ قرآن کریم میں اس کی تعریف یہ بیان فرمائی ہے کہ لَهُ الاسماء الحسنی سب اچھے نام ہی اللہ کے لئے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی نقص منسوب کرنا اول درجہ کا کفر ہے۔ کہ اس سے بڑھ کر کفر اور کوئی نہیں۔ کیونکہ جو شخص خدا تعالیٰ کو نہیں مانتا۔ وہ تو پھر بھی معذور ہے لیکن جو شخص اسے مان کر پھر اس کی طرف نقص اور بدی کو منسوب کرتا ہے۔ اس سے بڑھ کر خبیث النفس اور کوئی نہیں۔ اسی طرح مسیح موعود خدا تعالیٰ کا پیارا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ گندوں اور بدکاروں اور فاسقوں کو اپنا پیارا نہیں بناتا۔ کیونکہ وہ خود پاک ہے۔ اور پاکوں سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ اس کا رحم سب دنیا پر وسیع ہے۔ لیکن اس کا خاص تعلق اور اس کی رضاء کے مستحق صرف نیک اور راستباز انسان ہی ہوتے ہیں۔ اور چونکہ مسیح موعود اس کے مقرب بندوں میں سے ہے اس لئے اس کے صادق اور راستباز ہونے میں بھی کوئی شک نہیں ہو سکتا۔ اور جو شخص اسے کاذب قرار دے ۔ وہ بھی سخت خطرہ کی حالت میں ہے۔ اور حضرت مسیح موعود کو نبی نہ قرار دینے پر اللہ تعالی یا مسیح موعود دونوں میں سے ایک پر ضرور الزام لگانا پڑتا ہے۔ اور ہر دو باتیں انسان کے تباہ کر دینے والی ہیں مجھے یقین ہے کہ جن لوگوں نے حضرت مسیح موعود کی نبوت کا انکار کیا ہے انہوں نے کبھی اس امر پر پورا غور نہیں کیا۔ ورنہ مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ ان میں سے بہت سے حق پسند اور نیک فطرت اور سعید انسان اس خیال سے فورا توبہ کر لیتے۔ اور اپنے عقیدہ پر پشیمان ہوتے او پچھتاتے ۔ اور مجھے امید ہے کہ جب ان لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ مسیح موعود کی