انوارالعلوم (جلد 2) — Page 510
انوار العلوم جلد ۲ ۵۱۰ حقيقة النبوة (حصہ اول) کوئی نبی نہیں۔ پس آپ کا یہ کلام صاف ظاہر کر رہا ہے کہ آنے والا صاف ظاہر کر رہا ہے کہ آنے والا مسیح ضرور نبی ہو گا۔ اور یہ نہیں کہ صرف اس کا نام نبی ہو گا۔ کیونکہ نام نبی تو ہزاروں لوگ رکھ لیتے ہیں۔ کئی آدمی اپنا نام محمد نبی رکھ لیتے ہیں۔ پس نام نبی والے تو کئی انسان گزر چکے ہیں اور اگر نام نبی ہی مراد ہوتا۔ تو پھر آنے والا مسیح علاقی بھائیوں میں کس طرح شامل ہو جاتا۔ کیونکہ وہ تو سب انبیاء ہیں نہ کہ صرف نام نبی پانے والے ۔ پس یہ حدیث بالکل صاف ہے اور اس میں آنے والے مسیح کو نہ صرف نبی کہا گیا ہے بلکہ انبیاء کے گروہ میں شامل بتایا گیا ہے۔ اور اس بات کا ثبوت کہ یہ حدیث آنے والے نبی کے متعلق ہے خود الفاظ حدیث حدیث ہیں۔ کیونکہ اس میں اس مسیح کا یہ کام بتایا ہے کہ وہ قتل خنزیز کرے گا۔ صلیب توڑے گا۔ جزیہ موقوف کرے گا وغیرہ۔ اور یہ سب کام آنے والے مسیح کے ہیں نہ کہ پہلے مسیح کے۔ پھر ہلکے زرد رنگ کی دو چادریں بھی آنے والے مسیح کی ہی علامت ہیں پس سوائے اس کے کہ اس حدیث کو آنے والے مسیح پر چسپاں کیا جائے۔ اور کوئی صورت نہیں۔ اور چونکہ اس حدیث سے آنے والے مسیح کا نبی ہونا اور نبیوں کے گروہ میں شامل ہونا ثابت ہے اس لئے یا تو مسیح موعود کے دعوے کا انکار کیا جائے ورنہ ان کو نبی مانا جائے۔ پھر علاوہ اس قرینہ کے کہ جس مسیح کا ذکر اس حدیث میں ہے اس کا کام ظاہر کرتا ہے کہ وہ آنے والا مسیح ہے۔ اس حدیث کے مسیح موعود کی نسبت ہونے کا یہ بھی ایک قرینہ ہے کہ رسول اللہ ال فرماتے ہیں الْأَنْبِيَاءُ ۔ الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعِلَّاتِ أُمَّهَا تِ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَ دِينُهُمْ وَاحِدٌ وَان وَاحِدٌ وَأَنَا أَولَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِی انبیاء کا تعلق علاتی بھائیوں کا سا ہوتا ہے ان کی مائیں مختلف اور دین ایک ہی ہوتا ہے اور دوسرے لوگ لوگوں کی نسبت میرا تعلق عیسی بن مریم سے بہت زیادہ ہے کیونکہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ اب اگر اس حدیث کو مسیح ناصری کے متعلق سمجھا جائے تو یہ سوال ہو گا کیا عیسی بن مریم ناصری سے (انبیاء کی جماعت) رسول الله الا اولی الناس تھے یا حضرت کی کیونکہ رسول اللہ الله تو مسیح کے چھ سو سال بعد ہوئے۔ اور حضرت یحییٰ خود حضرت مسیح کے زمانہ کے نبی بلکہ ان کے استاد تھے ۔ اور اگر صرف کسی نبی کا درمیان میں نہ ہونا تعلق کو بڑھا دیتا ہے تو ایک زمانہ میں ہونا اور بھی تعلق کو بڑھا دے گا۔ پس لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِی کی دلیل سے تو حضرت مسیح ناصری سے حضرت یحییٰ کا تعلق زیادہ ثابت ہوتا ہے اور خود آنحضرت ا معراج کی حدیث میں حضرت یحییٰ کو حضرت مسیح کے پاس بیٹھا دیکھ بھی چکے ہیں۔ پس حضرت مسیح ناصری سے تو اولی الناس حضرت یحییٰ ہیں نہ کہ ہمارے