انوارالعلوم (جلد 2) — Page 506
انوار العلوم جلد ۲ ۵۰۶ حقيق النبوة (حصہ اول) ہے کہ اس جگہ تو صاف مسیح کا ذکر ہے اور ایک جگہ انجیل کا ذکر ہے۔ کا ذکر ہے۔ پس قرآن کریم سے ثابت ہے آیت کا مسیح سے تعلق ہے اور چونکہ یہ آیت اپنے پہلے مظہر آنحضرت ا کی ر کی رسالت کا ثبوت ہے۔ اس لئے اس کے دوسرے مظہر مسیح موعود کی رسالت کا بھی اس سے ثبوت نکلتا ہے دوسری آیت جس میں مسیح موعود کو رسول قرار دیا ہے ۔ وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمع : (الجمعہ : ۴) کی آیت ہے۔ جس میں آنحضرت ا کے دو بعث بتائے گئے ہیں۔ پس ضرور ہے کہ دو سرا بعث بھی رسالت کے ساتھ ہو۔ غرض کہ یہ چاروں آیات قرآن کریم کی مسیح موعود کی نبوت پر ایک گواہ کے طور پر ہیں جن کا انکار کوئی نہیں کر سکتا۔ (۲) دوسری دلیل حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے پر یہ ہے ہونے پر یہ ہے کہ آپ کو آنحضرت ا نے نبی کے نام سے یاد فرمایا ۔ اور نواس بن سمعان کی حدیث میں نبی اللہ کہہ کے آپ کو پکارا گیا ہے۔ پس آنحضرت شاہد ہیں اس امر کے کہ حضرت مسیح موعود نبی ہیں۔ اب ہم آنحضرت ا کی شہادت کو کس طرح چھوڑ دیں ۔ جسے خدا تعالی قرآن کریم میں رسول کہتا ہے ۔ اور هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَی میں اس کی نسبت پیشگوئی کرتا ہے۔ اور رسول اللہ اس کے نبی ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ اس کی نبوت کا انکار کرنا کسی مؤمن کے لئے جائز نہیں ہو سکتا۔ وہ شخص جو آنحضرت ﷺ کے قول کی عزت نہیں کرتا۔ اور اسے سن کر منہ پھیر لیتا ہے۔ اور اس کا سینہ نہیں کھل جاتا ہے۔ وہ اپنی روحانیت کا علاج کرے ۔ کہ کوئی ایسا شخص مومن نہیں ہو سکتا۔ فلا فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِى اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا عِمَا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (النساء:١٦) پس آنحضرت کے فیصلہ کے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں اگر آپ نے لا نبی بعْدِی فرمایا ہے تو مسیح کو نبی اللہ بھی فرمایا ہے۔ پس ان دونوں اقوال کو ملا کر یہ معنی کرنے پڑیں گے کہ ایک قسم کے نبی آپ کے بعد نہیں ہوں گے اور ایک اور ہوں گے اور ایک اور قسم کے ہوں گے۔ اور آنے والا مسیح نبی ہو گا۔ جو شخص آنحضرت ا کے اقوال میں سے ان کو چن لیتا ہے جو اس کی خواہشات کے مطابق ہوں۔ اور دوسروں کو چھ سروں کو چھوڑ دیتا ہے وہ آ۔ موڑ دیتا ہے وہ آپ کا مطیع نہیں کہلا سکتا۔ حضرت عائشہ نے ایسے ہی لوگوں سے ڈر کر شاید یہ فرمایا تھا کہ قُولُوا خَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ (الدر المنثور جلد ۵ صفحه ۲۰۴) خاتم الانبیاء تو کہہ لو لیکن لا نبی بعدہ نہ کہو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں خیال پیدا ہوا ہو گا۔ کہ کچھ دن کے بعد بعض لوگ نبوت کا دروازہ بالکل مسدود نہ سمجھ لیں۔ اور وقت پر خدا