انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 503

انوار العلوم جلد ؟ ۵۰۳ حقيقة النبوة (حصہ اول) ہے۔ پس اس قسم کے نبی ماننے میں ہم آنحضرت اللہ کی ہتک نہیں کرتے۔ بلکہ آپ کے درجہ کی بلندی کا اظہار کرتے ہیں۔ اور جو شخص اپنے قول یا فعل سے رسول اللہ ا کی ہتک کرتا ہے وہ بے شک ملعون ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اس کے لئے بند ہیں۔ نادان انسان ہم پر الزام لگاتا ہے کہ مسیح موعود کو نبی مان کر گویا ہم آنحضرت ا کی ہتک کرتے ہیں۔ اسے کسی کے دل کا حال کیا معلوم۔ اسے اس محبت اور پیار اور عشق کا علم کس طرح ہو جو میرے دل کے ہر گوشہ میں محمد رسول اللہ ا کے لئے ہے۔ وہ کیا جانے کہ محمد الی کی محبت میرے اندر کس طرح سرایت کر گئی ہے وہ میری جان ہے۔ میرا دل ہے میری مراد ہے۔ میرا مطلوب ہے۔ اس کی غلامی میرے لئے عزت کا باعث ہے۔ اور اس کی کفش برداری مجھے تخت شاہی سے بڑھ کر معلوم دیتی ہے۔ اس کے گھر کی جاروب کشی کے مقابلہ میں بادشاہت ہفت اقلیم بپیچ ہے ۔ وہ خدا تعالیٰ کا پیارا ہے۔ پھر میں کیوں اس سے پیار نہ کروں۔ وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے پھر میں اس سے کیوں محبت نہ کروں۔ وہ خدا تعالی کا مقرب ہے پھر میں کیوں اس کا قرب نہ تلاش کروں۔ میرا حال مسیح موعود کے اس شعر کے مطابق ہے۔ کہے بعد از خدا بعشق محمد محترم گر کفر این بود بخند اسخت کا فرم اور یہی محبت تو ہے جو مجھے اس بات پر مجبور کرتی ہے۔ کہ باب نبوت کے بکلی بند ہونے کے عقیدہ کو جہاں تک ہو سکے باطل کروں۔ کہ اس میں آنحضرت ا کی ہتک ہے۔ بے شک اگر یہ مانا جائے کہ کوئی شخص ایک ایسی شریعت لایا ہے جو قرآن کریم کو منسوخ کر دے گی تو اس میں آنحضرت اللہ کی ہتک ہے۔ اور اگر یہ مانا جائے کہ آنحضرت ا اس کے بعد کوئی ایسا نبی آئے گا۔ جو آپ کی اطاعت کے بغیر انعام نبوت پائے گا تو اس میں بھی آپ ا کی ہتک ہے۔ کیونکہ اس کا یہ مطلب ہو گا کہ آنحضرت اللہ کا فیضان کمزور ہے کہ آپ کی موجودگی میں ، موجودگی میں براہ راست فیضان کی حاجت پیش آئی لیکن اسی طرح اس عقیدہ میں بھی آنحضرت ا کی ہتک ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا فیضان ناقص اور آپ کی تعلیم کمزور ہے کہ اس پر چل کر انسان اعلیٰ سے اعلیٰ انعامات نہیں پاسکتا۔ دنیا میں وہی استاد لائق کہلاتا ہے جس کے شاگر دلائق ہوں اور وہی افسر معزز کہلاتا ہے جس کے ماتحت معزز ہوں۔ یہ بات ہرگز فخر کے قابل نہیں کہ آپ کے شاگردوں میں سے کسی نے اعلیٰ مراتب نہیں