انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 482

انوار العلوم جلد ۲ ۴۸۲ حقيقة النبوة ( حصہ اول) آنحضرت ا کی اتباع سے ہے اور یہی عقیدہ ہمارا ہے لیکن ہم یہ جائز نہیں سمجھتے کہ کوئی نادان ان معنوں کو چھوڑ کر جو خود حضرت مسیح موعود نے ان حوالہ جات کے کئے ہیں اور معنی کرے اور کہے کہ دیکھو مسیح موعود نے اپنی نبوت سے انکار کیا ہے حضرت مسیح موعود کے اپنے کئے ہوئے معنوں سے باہر جانے کی اجازت کسی کو نہیں۔ کیونکہ یہ الفاظ لغت میں ان معنوں کے ساتھ استعمال نہیں ہوتے۔ جن میں حضرت مسیح موعود نے ان کو استعمال کیا ہے پس یہ حضرت مسیح موعود کی اصطلاحات سے ہیں۔ اور وہی معنی ان کے جائز ہو سکتے ہیں جو خود آپ نے کئے ۔ نہ وہ جو دوسرا اپنے ذہن سے بنائے اور نہ وہ جو لغت میں آئیں۔ پس ہماری جماعت کے لوگ خوب یاد رکھیں کہ یہ حضرت صاحب کی اپنی اصطلاحات ہیں اور اگر کوئی شخص ان کو پیش کرکے ان کے معنی اپنے پاس سے کرنے لگے مثلا یہ کہہ دے کہ حقیقی نہیں رہ ہوتا ہے جو واقعہ میں نبی ہو کیونکہ حقیقی کے لغت میں یہی معنی ہیں اور چونکہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ میں حقیقی نبی نہیں۔ سو معلوم ہوا کہ آپ در حقیقت نبی نہ تھے تو ایسے شخص کو صاف کہہ دیں کہ اس غلط بیانی سے باز آؤ ۔ اور مسیح موعود کی کتابوں سے تمسخر نہ کرو۔ مسیح موعود نے جب خود ان الفاظ کے معنی کر دیئے ہیں تو تم کون ہو کہ اور معنی کرو۔ اور وہ معنی جو حضرت مسیح موعود نے کئے ہیں یہ ہیں کہ میں کوئی نئی شریعت نہیں لایا۔ اور میری نبوت بلا واسطہ نہیں۔ اور یہی ہمارا مذہب ہے۔ اصطلاحات کے معنی کرنے میں بہت احتیاط سے کام لینا چاہئے اور اپنی طرف سے معنی کرنے جائز نہیں ورنہ حق کی مخالفت ہو گی۔ اور جب انسان حق کی مخالفت کرتا ہے تو اس کی زبان پر ایسا کلام جاری ہو جاتا ہے جو اسے حق سے دور ہی دور کرتا چلا جاتا ہے۔ چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود کی نبوت کا انکار کرتے ہیں وہ خدا کے سب بزرگوں سے منکر ہو رہے ہیں اور حفظ مراتب کا خیال ان کے دل سے نکل گیا ہے۔ اور اپنے جو شوں میں اندھے ہو کر خدا تعالیٰ کے برگزیدوں پر ہاتھ ڈالنے سے نہیں ڈرتے جو ایک قابل خوف علامت ہے۔ مؤمن کو چاہئے ہر ایک بحث و تکرار کے وقت اپنے جوش کو قابو میں رکھے۔ اور اپنے مد مقابل کی حالت پر نظر نہ کرے بلکہ یہ دیکھے کہ میں کس شخص کے متعلق کلام کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے پاک بندوں کے لئے نہایت غیور ہوتا ہے۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے۔ اس وقت تک لاکھوں برگزیدہ انسان گذر چکے ہیں اور لاکھوں کروڑوں نے ان کی مخالفت کی ہے لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اللہ تعالی کے برگزیدوں کی ہنگ کرنے والا اور ان کو دکھ دینے والا انسان سزا سے بچ گیا ہو ۔ اور اگر ہو تو لوگ دین سے بالکل پھر